تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 105
رہتی ہے اور جس طرح سڑی ہوئی گٹھلی سے کوئی پودہ نہیں اُگ سکتا۔آم کی سڑی ہوئی گٹھلی بو دو تو اس سے سڑے ہوئے آم پیدا نہیں ہوں گے لیکن آم کی اچھی گٹھلی بو دو تو اچھے آم پیدا ہونے لگیں گے۔اسی طرح نیکی ترقی کرتی ہے لیکن بدی اپنی ذات تک محدود رہتی ہے۔اگر تم چاہتے ہوکہ بدیاں تمہاری نجات کی راہ میں حائل نہ ہوں تو تمہیں ہماری نصیحت یہ ہے کہ تم کثرت سے نیکیاں بجا لائو۔پھر فرماتا ہے وَ هُوَ الَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ يَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ(الشورٰی :۲۶) وہ خدا ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا، ان کی کو تا ہیوں سے درگذر کرتا اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔پھر فرماتا ہے وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ (الشورٰی:۳۱) تمہیں جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ اپنے اعمال کے نتیجہ میں پہنچتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ انسان کے اکثر گناہوں سے چشم پوشی کرتا ہے۔ان آیات سے وہ اعتراض باطل ہو گیا جو بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ہر نیکی کا بدلہ ملنا ہے اور ہربدی کی سزا مقدر ہے تو پھر جنت اور دوزخ کے کیا معنے ہوئے۔اگر ہر خیر کا بدلہ ہم نے ضرور دیکھنا ہے تو پھر دوزخ اڑ گئی اور اگر ہر بدی کا بدلہ ہم نے ضرور دیکھنا ہے تو پھر جنت اڑ گئی۔اوپر کی بیان کردہ آیات نے اس اعتراض کا باطل ہونا ثابت کر دیا ہے اور بتادیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہر نیکی قابل جزا ہے اور ہر بدی قابل پاداش پھر بھی جنت اپنی جگہ قائم رہے گی اور دوزخ اپنی جگہ قائم رہے گی جس کی بدیاں زیادہ ہوں گی وہ دوزخ میں گر ا یا جائے گا اور جس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی وہ جنت میں داخل کیا جائے گا جس کی بدیوں کی کثرت اس کی نیکیوں کو کھا جائے گی وہ دوزخ میں چلا جائے گا اور جس کی نیکیوں کی کثرت اس کی بدیوں کو کھا جائے گی وہ جنت میں چلا جائے گا۔غرض جنت بھی قائم رہی اور دوزخ بھی۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے ابن جریر حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ کَانَ اَبُوْ بَکْرٍ یَأْکُلُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔حضرت ابو بکر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص ایک ذرّہ بھر بھی نیکی کرے گا وہ اس کا انجام دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرّہ بھر بھی بدی کرے گا وہ اس کا انجام دیکھ لے گا فَرَفَعَ اَبُوْ بَکْرٍ یَدَہٗ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ آیت سن کر گھبرا گئے اور انہوں نے کھانے سے اپنا ہاتھ اٹھا