تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 103
یقینی بات ہے۔جس کے وزن بھاری ہو جائیں گے یعنی بدیاں اڑجائیں گی اور نیکیاں باقی رہ جائیں گی وہ کامیاب ہو جائے گا اور جس کے وزن ہلکے ہو جائیں گے اور وزن کے ہلکا ہونے کے یہ معنے ہیں کہ اس کی بدیاں زیادہ ہو ں گی۔نیکیاں ان بدیوں کو اڑا نے کے لئے انسان کے پاس نہیں ہوں گی۔فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یہ وہ لوگ ہیں جو نقصان پانے والے ہوں گے بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ کیونکہ یہ لوگ ہماری آیات کے ساتھ ظلم کیا کرتے تھے۔اس سوال کا جواب کہ جب ہر بدی کا بدلہ ملتا ہے تو توبہ کے کیا معنی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ خیال کہ جب ہر بدی کا بدلہ انسان نے ضرور دیکھنا ہے تو پھر بخشش اورتوبہ کے کیا معنے ہوئے اور جب ہر خیر کا بدلہ انسان نے ضرور دیکھنا ہے تو پھر دوزخ کا کیا فائدہ ہوا بالکل غلط ہے ہر انسان نے جو عمل خیر کیا ہوگا وہ بھی قیامت کے دن موجود ہوگا اور جو اس نے عمل شر کیا ہوگا وہ بھی قیامت کے دن موجود ہو گا۔وہ اپنے خیر کو بھی دیکھے گا اور اپنے شر کو بھی دیکھے گا اور دونوں کے تقابل کے نتیجہ میں جو چیز زیادہ ہو گی وہ دوسرے حصہ کو کاٹ دے گی۔خیر زیادہ ہو گا تو اس کی وجہ سے شر کٹ جائے گا اور اگر شر زیادہ ہو گا تو خیر کٹ جائے گا بہر حال چھوٹا حساب بڑے حساب میں سے وضع کر لیا جائے گا مثلاً ایک شخص ایسا ہے جس نے دس ہزار نیکی کی اورایک ہزار بدی۔ایک اور شخص ایسا ہے جس نے دس ہزار نیکی کی اور پانچ سو بدی کی۔ایک اور شخص ایسا ہے جس نے دس ہزار نیکی کی اور دو سو بدی کی۔ایک اور شخص ایسا ہے جس نے دس ہزار نیکی کی مگر بدی کوئی ایک بھی نہیں کی تو لازماً وہ شخص جس نے کوئی بدی نہیں کی وہ اونچے درجہ پر ہوگا اس سے نیچے وہ شخص ہوگا جس نے دوسو بدیاں کیں۔اس سے نیچے وہ شخص ہوگا جس نے پانچ سو بدیاں کیں۔اس سے نیچے وہ شخص ہوگا جس نے ایک ہزار بدیاںکیں۔بے شک یہ سب لوگ جنت میں ہوں گے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سب نے اپنے شر کو دیکھ لیا۔اس نے بھی دیکھ لیا جس نے ایک ہزار بدیاں کی تھیں کیونکہ اسے وہ مقام نہ ملا جو پانچ سو بدیاں کرنے والے کو ملا اور اس نے بھی شر دیکھ لیا جس نے پانچ سو بدیاں کی تھیں کیونکہ اسے وہ مقام نہ ملا جو دوسو بدیاں کرنے والے کو ملا۔اور اس نے بھی شر دیکھ لیا جس نے دو سو بدیاں کی تھیں کیونکہ اسے وہ مقام نہ ملا جو اس شخص کو ملا جس نے کوئی بدی بھی نہیں کی تھی۔آخر یہ واضح بات ہے کہ کیوں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم محمدیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہوں گے۔ابو بکرؓ کیوں ابوبکر ؓ کے مقام پر ہو گا۔عمرؓ کیوں عمر ؓ کے مقام پر ہو گا اور عام مومن کیوں عام مومنوں کے مقام پر ہوں گے۔اسی لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بدی نہیں کی۔اس لئے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے قرب کا انتہائی مقام مل گیا۔ابو بکر ؓ سے کچھ غلطیاں ہوئیں اس لئے انہیں وہ مقام نہ ملا جو محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔پس ابو بکر ؓ نے اپنے شر کو دیکھ