تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 95

ہے کہ میں متقی ہوں۔اب ان میں سے جو اَ تْقٰی ہے یعنی جس کا تقویٰ بھاری ہے اور جس کے کاموں میں رضاء الٰہی حاصل کرنے کی روح زیادہ پائی جاتی ہے وہی دوزخ کی آگ سے بچایا جائے گا چنانچہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح بھی کر دی ہے کہ وہ اَ تْقٰی کون ہے۔الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى ۚ۰۰۱۹ (ایسا متقی) جو اپنا مال (اس طرح خدا کی راہ میں) دیتا ہے کہ (اس سے) تزکیہ حاصل کرے۔وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ۰۰۲۰ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ اس (عطا) سے (اس احسان کا) بدلہ اتارا جاتا ہو۔تفسیر۔اَ تْقٰی کون ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ اَ تْقٰی کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ کون ہے فرماتا ہے اَتْقٰی وہ ہے جو اپنا مال اس نیت اور ارادہ سے دیتا ہے کہ میں پاک ہو جائوں۔يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى اَیْ حَالَ کَوْنِہٖ یَتَزَکّٰی کہ وہ اپنا مال دیتا ہے ایسی حالت میں کہ وہ پاک ہونا چاہتا ہے۔دوسری بات اس میںیہ ہوتی ہے کہ وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى کسی شخص کا اس پر کوئی احسان نہیں ہوتا کسی کی نعمت میں سے کوئی نعمت اس کے پاس نہیں ہوتی یعنی کسی کا سابق احسان اس پر نہیں ہوتا جس کا وہ بدلہ دے رہا ہو۔اس کے اعمال کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ میں کسی کا احسان اتاروں بلکہ وہ ایسے اعمال کرتا ہے جن سے اس کا دوسروں پر احسان ہوجاتا ہے گویا وہ یہ تو چاہتا ہے کہ اس کا کسی نہ کسی رنگ میںدوسروں پر احسان ہو مگر وہ یہ نہیں چاہتا کہ اُس پر کسی کا احسان ہو۔اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ۰۰۲۱ ہاں مگر اپنے عالی شان رب کی خوشنودی حاصل کرنا (اس کا مقصود ہوتا ہے)۔حلّ لُغات۔اَلْوَجْہُ اَلْوَجْہُ کے معنے ہیں اَلْمَرْضَاۃُ۔رضا مندی (اقرب) تفسیر۔مومن کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اموال اس رنگ میں خرچ کرتا ہے کہ اس پر کسی کا احسان نہیں ہوتا جس کا وہ بدلہ اتار رہا ہو بلکہ بغیر اس کے کہ اس پر کسی کا سابق احسان ہو وہ اپنے رب کی رضامندی حاصل