تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 96
کرنے کے لئے صدقہ و خیرات کرتا یا بنی نوع انسان کی امداد کے لئے اپنا روپیہ صرف کرتا ہے۔یہاں رب کی صفت اعلیٰ بیان فرمائی ہے جو سب سے بڑا ہے اس سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بے شک انسانوں پر دوسرے انسانوں کے بھی احسان ہوتے ہیں لیکن چونکہ اصل محسن اللہ تعالیٰ ہے اور سب سے زیادہ وہی مربّی ہے اس لئے مومن اس کی رضا کو سب دوسرے محسنوں کی رضا پر مقدم کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کام کیا تو چونکہ سب احسانوں کا منبع وہ ہے اس لئے سارے ہی محسنوں کا بدلہ بھی اتر گیا۔وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى ؒ۰۰۲۲ اور وہ ضرور اس سے راضی ہو جائے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے جب ایک شخص اپنے اموال خرچ کرتا ہے اور اس کے مدنظر محض خدا تعالیٰ کی رضامندی ہوتی ہے یہ غرض نہیں ہوتی کہ وہ کسی سابق احسان کا بدلہ اتارے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ تو میری رضا کے لئے اس قدر جدوجہد کرے اور میں اس سے راضی نہ ہوں۔جب وہ خد اکی رضا کے لئے ایسا کر رہا ہے تو یقیناً خدا بھی اس سے راضی ہو جائے گا۔جب ایک کمزور اور ناتوان بندہ دنیا سے اپنی توجہات ہٹا کر محض خدا تعالیٰ کی رضا کےلئے اپنے اموال کو قربان کر رہا ہو تو خدا تعالیٰ کی شان سے یہ بالکل بعید ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنی رضا کی خلعتِ فاخرہ نہ پہنائے اور اسے اپنے پیاروں میںشامل نہ کر لے ایسا شخص یقیناً اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا اور خدا تعالیٰ کی رضا کا ایک دن وارث ہو جاتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے طریق اور اس کے معمول کے خلاف اپنی قربانی کا لوگوں سے کوئی معاوضہ طلب نہیںکرتا۔دنیا میں لوگ قربانیاں کرتے ہیں تو اس لئے کہ انہیں عہدے مل جائیں یا افسران بالا کی خوشنودی اُن کو حاصل ہو جائے یا ان کی تنخواہ میںاضافہ ہو جائے یا پبلک میں اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے مگر یہ وہ شخص ہوتاہے جو ہر قسم کی دنیوی غرض سے اپنے دل کو صاف کر دیتا ہے وہ یہ نہیں چاہتا کہ لوگ میری تعریف کریں یا میرے کاموں پر واہ وا کے نعرے بلند کریں یا مجھے پبلک میں کوئی خاص عزت دی جائے وہ صرف اپنے رب کی رضا کا بھوکا ہوتا ہے اوراس کے مد نظر محض یہ بات ہوتی ہے کہ جس طرح میںدوسروں کا خیال رکھتا ہوں اسی طرح اللہ تعالیٰ میرا خیال رکھے اور وہ میرے گناہوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے مجھ سے راضی ہو جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب وہ دنیا کے تمام دروازوں کو چھوڑ کر میرے دروازہ پر آگرا ہے اور ہر قسم کی خوشنودیوں کو اس نے محض میری خوشنودی کے