تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 92

اس لئے باوجود اس کے کہ وہ انکار کرتے ہیں، مخالفتیں کرتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، مومنوں کو تکالیف پہنچاتے ہیںپھر بھی ہم ان کو ہدایت دیتے چلے جاتے ہیںکیونکہ ہم انسان کو پید اکرنے والے ہیں، ہم مشفق اور مہربان ہیں، ہم رحمٰن اور رحیم ہیں، ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیںاور باوجود ان کے انکار کے انہیں ہدایت دیتے چلے جاتے ہیں۔وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى ۰۰۱۴ اور ہر بات کی انتہا اور ابتداء بھی یقیناً ہمارے ہی اختیار میں ہے۔تفسیر۔کفار کے ایمان نہ لانے کی اصل وجوہات اس آیت میں اللہ تعالیٰ کفار کو بتاتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ تمہاری راہ میں وہ کون سی مشکلات ہیں جن کی بناء پر تم سچائی کو قبول نہیں کرتے۔تمہارے لئے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ تم دنیا چھوڑنے کے لئے تیار نہیںہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمان اپنے مال کی پرواہ نہیں کرتے۔جب بھی کوئی قومی اور ملی ضرورت پیش آتی ہے وہ اپنے اموال کو بلا دریغ قربان کر دیتے ہیں مگر تم اپنے اموال کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہو اسی لئے تم مسلمانوں کے متعلق کہتے ہو کہ وہ پاگل ہیں تباہ اور برباد ہو جائیں گے کیونکہ وہ اپنے اموال کو ضائع کر رہے ہیں۔لیکن ہم تباہ نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم اپنے مال کو حفاظت سے رکھتے ہیں۔فرماتا ہے یہ خیال ہے جو تمہار ے دلوں میںپایا جاتا ہے مگر تمہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ ہمارے پاس ہی آخرت ہے اور ہمارے پاس ہی دنیا ہے۔تم دنیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہیںدنیا بھی نہیںملے گی اوردین بھی تمہارے ہاتھ سے چلا جائے گا کیونکہ دنیا بھی ہمارے پاس ہے اور آخرت بھی ہمارے پاس ہے اس کے مقابلہ میںیہ مسلمان دنیا کو چھوڑ رہے ہیں مگر ہم انہیں آخرت بھی دیں گے اور دنیا بھی دیں گے۔تم سمجھ رہے ہو کہ یہ اپنا نقصان کر رہے ہیں مگر یہ نقصان نہیںکر رہے جب یہ ہمارے پاس پہنچیںگے تو جس چیز کو چھوڑ کر یہ لوگ چلے تھے وہ وہیں کھڑی ہو گی اور یہ اس کو حاصل کر لیں گے۔تم جانتے ہو کہ یہ لوگ ہمارے پاس آرہے ہیں جب یہ ہمارے پاس آرہے ہیں تو گو اس نیت اور ارادہ سے آرہے ہیں کہ ہمیںآخرت ملے گی مگر چونکہ دنیا بھی ہمارے پا س ہو گی اس لئے وہ بھی ان کو مل جائے گی اور تم لوگ آخرت چھوڑ کر دنیا کے پاس جا رہے ہو اور چونکہ دنیا ہمارے پاس ہے اور تم ہماری طرف نہیں آرہے اس لئے تمہاری جد وجہد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھی تمہارے ہاتھ سے جائے گی اور آخرت کی نعمتوں سے بھی تم محروم ہو جائو گے۔گویا کفار کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کسی شخص کے پاس بہت سا