تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 91

کام بھی کرے گا تو ان کا کوئی نتیجہ پید انہیں ہو گا کیونکہ عذاب کی ساعت سر پر کھڑی ہو گی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہلاکت کا فیصلہ نہ ہو اس وقت تک مال، دولت اور عزت ہر چیز انسان کے کام آجاتی ہے لیکن جب تباہی کا فیصلہ ہو جائے تو پھر کوئی چیز کام نہیںآتی۔انسان مال خرچ کرتاہے تو الٹا نتیجہ پیدا ہوتا ہے، رحم کرتا ہے تو الٹا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔نہ دولت کام آتی ہے نہ عزت کام آتی ہے نہ نرمی اور محبت کام آتی ہے۔پہلے اگر وہ صدقہ کرتا ہے تو لوگ اس کی قدر کرتے ہیں مگر پھر وہ صدقہ کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں اب ہمیںرشوت دے رہا ہے۔پہلے نرمی کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں حسنِ اخلاق سے کام لے رہا ہے پھر اس وقت نرمی کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ ہماری منتیں کر رہا ہے۔گویا سارے حالات ا س کے مخالف ہو جاتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں رہتی جو ا س کو فائدہ پہنچا سکے۔غرض فرمایاوَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰى۔جب اس کی ہلاکت کا وقت آئے گا تو اس وقت وہ وہی کام کرے گا جو ہم اب اسے کرنے کو کہتے ہیںمگر یہ نہیں کرتا۔لیکن اس وقت ان کاموں کا الٹا نتیجہ پیدا ہو گا مال دے گا تو لوگ کہیں گے ہمیں رشوت دیتا ہے۔نرمی سے بولے گا تو لوگ کہیںگے ہماری خوشامد کرتا ہے۔اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ۰۰۱۳ ہدایت دینا یقیناً ہمار ے ہی ذمہ ہے۔تفسیر۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسروںکو فائدہ پہنچانا، تقوی اللہ اختیار کرنا اور اچھی باتوں کی تصدیق کرنا یہ ان اعمال میں سے ہیں جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں اور بخل سے کام لینا، استغنٰی ظاہر کرنا اور سچی باتوں کی تکذیب میں حصہ لینا یہ ان اعمال میںسے ہیںجو قوموں کو ہلاکت کے گڑھے میںگرا دیتے ہیںمگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریک رات کے مارے ہوئے لوگوں کو خدا تعالیٰ ہی ہدایت دے سکتا ہے۔اِنَّ عَلَیْنَا کے معنے ہیں ہم پر واجب ہے یا ہمارا ہی یہ کام ہے یعنی بنی نوع انسان سے بوجہ حقیقی شفقت اور مہربانی رکھنے کے یہ ہمارا ہی کام ہے کہ ہم ان کو ہدایت دیں انسان کا کام نہیں کہ وہ اپنے لئے آپ ہدایت تجویز کر لے کیونکہ بسا اوقات انسان اپنے نفس کے متعلق آپ فیصلہ کر تا ہے جو غلط ہوتا ہے۔بخیل اپنے متعلق ایک فیصلہ کرتا ہے اور وہ غلط ہوتا ہے۔ظالم اپنے متعلق ایک فیصلہ کرتاہے اور وہ غلط ہوتا ہے۔جاہل اپنے متعلق ایک فیصلہ کرتا ہے اور وہ غلط ہوتا ہے۔پس خواہ وہ اپنے متعلق خود ہی کوئی فیصلہ کر لیتے پھر بھی وہ اپنے نفس کے اتنے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جتنے ہم ان کے خیر خواہ ہیں۔