تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 90

نہ ہونا استغناء پیدا کرتا ہے، صحیح عمل کا نہ ہونا بخل پیدا کرتا ہے اور صحیح فکر کا نہ ہونا تکذیب پیدا کرتا ہے۔جس طرح پہلی آیات میں یہ بتایا تھا کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں صحیح عمل، صحیح جذبات اور صحیح فکر پایا جاتا ہے اسی طرح ان آیات میں یہ بتاتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں غلط علم، غلط جذبات اور غلط فکر پایا جاتا ہے اور چونکہ یہ دونوںمثالیںمسلمانوں اور کفار کی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان امور کا ذکر کرتے ہوئے کفار کو بتاتا ہے کہ تم میںجب یہ یہ نقائص پائے جاتے ہیںاور مسلمانوں میں اس کے مقابلہ میں بہت بڑی خوبیاں پائی جاتی ہیںتو تم ان کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہو؟ اُن کے کاموں کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ ہم ان کے لئے یُسْـرٰی مہیا کر دیںگے مگر تمہارے کاموں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم تمہارے لئے عُسْـرٰی مہیا کر دیںگے۔مطلب یہ ہے کہ تمہارے سارے کام بگڑتے چلے جائیںگے جس کام کو بھی ہاتھ لگائو گے خراب ہو جائے گا اور یا پھر یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ان اعمال کے نتیجہ میںتمہارے لئے نیکی کا حصول زیادہ سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔اصل کام اعمالِ صالح ہی ہیں ان اعمال سے انسان جتنا دور ہوتا جاتا ہے اتنا ہی نیکی کی طرف لوٹنا اُس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے گویا دو باتیں ہوں گی ایک تو یہ کہ نیکی کا حصول مشکل ہو جائے گادوسرے یہ کہ تم جو کام بھی کرو گے اُس کا نتیجہ الٹ ہو گا کیونکہ تمہارے عمل میں خرابی پیدا ہو چکی ہے، تمہارے اندر بے پروائی ہے جو جذبات کے فقدان اور ان کی خرابی کی دلیل ہے اور پھر تمہارے اندر تکذیب پائی جاتی ہے جو ذہن و فکر کی نادرستی اور غلط علم کا ثبوت ہے۔یہ ساری باتیں مل کر تمہاری ہلاکت اور بربادی کا موجب بن جائیں گی۔وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ۰۰۱۲ اور جب وہ ہلاک ہو گا تو اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا۔حلّ لُغات۔تَرَدّٰی تَرَدّٰی فِی الْھُوَّۃِ کے معنے ہیں سَقَطَ فِیْـھَا۔وہ گڑھے میں گر گیا (اقرب) مفردات میں ہے کہ اَلتَّـرَدِّیْ کے معنے ہیں التَّعَرُّضُ لِلْھَلَا کِ اپنے آپ کو ہلاکت کے پیش کرنا (مفردات) پس تَرَدّٰی کے معنے ہوں گے۔گر گیا (۲) ہلاکت کے سامنے ہوا۔تفسیر۔فرماتا ہے جب مذکورہ بالا صفات والا گروہ ہلاک ہونے کے قریب پہنچے گا یا اپنے مقام سے گر جائے گا تو اسے اس کا مال کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔جب تک عزت حاصل ہے وہ بے شک فخر کر لے لیکن جب تنزل کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہلاکت قریب آگئی اس وقت کوئی چیز اس کے کام نہیں آئے گی۔اس وقت وہ اچھے