تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 86

پل کر کسی اور شہر میںاپنا کاروبار شروع کر دے اور اتنا لمبا عرصہ اس علیحدگی پر گذر جائے کہ وہ اپنے باپ کی شکل تک بھول جائے اس کے بعد فرض کرو ایک دن اس کا باپ اسی شہر میں آجائے اور بوجہ غربت کے مزدوری شروع کر دے اور بیٹا مثلاً سفر پر جاتے ہوئے یا گھر بدلتے ہوئے یا سوداگھر پہنچانے کے لئے ایک مزدور کا محتاج ہو اور اس کی نظر اپنے باپ پر پڑے تو کیا اس کے دل میں محبت اور رقّت کے جذبات پیدا ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ بوجہ غلط علم کے وہ اپنے باپ کو ایک مزدور کی شکل میں ہی دیکھے گا اور بے تکلفی سے کہہ دے گا او بڈھے ادھر آئو یہ سامان اٹھا کر فلاں جگہ تک لے چلو تم کو اتنے پیسے ملیںگے۔تو باوجود اس کے کہ حقیقت کے لحا ظ سے وہ جوان بیٹا ہو گا اور بڈھا اس کا باپ ہو گا لیکن چونکہ اسے علم نہیں ہو گا کہ یہ میرا باپ ہے بلکہ وہ اسے ایک مزدور سمجھ رہا ہو گا۔اس لئے اس کے دل میں کوئی جذبۂ ہمدردی اپنے باپ کے متعلق پیدا نہیںہو گا وہ اس سے اسی طرح کام لے گا جس طرح ایک عام مزدورسے کام لیا جاتاہے پس غلط علم کے نتیجہ میں ہمیشہ غلط جذبات پیدا ہوتے ہیں اور غلط جذبات کے نتیجہ میںہمیشہ غلط عمل پیدا ہوتا ہے۔علم محرک ہے جذبات کا اور جذبات محرک ہیںعمل کے۔صحیح عمل تبھی پیدا ہو تا ہے جب جذبات اعلیٰ درجہ کے ہوں اور صحیح جذبات تبھی پیدا ہوتے ہیں جب علم اعلیٰ درجے کا ہو۔صحیح جذبات کے بغیر اچھا عمل کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ماں کی محبت کو دیکھ لو وہ کس طرح اپنے بچہ کے لئے مرتی چلی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر کسی نوکر کو بیس گنا معاوضہ بھی دے دیا جائے تب بھی وہ کبھی اس طرح دن رات کام نہیں کر سکتا جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کے لئے تکلیف برداشت کرتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ نوکر جذبہ سے کام نہیں کرتا اس کاکام صرف فکر سے تعلق رکھتا ہے جذبات غائب ہوتے ہیں۔تو صحیح عمل کے لئے صحیح جذبات کی ضرورت ہوتی ہے اور صحیح جذبات کے لئے صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر جب یہ تینوں چیزیںاکٹھی ہو جائیں تو پھر تو وہ قوم یا فرد جوان تینوں خوبیوں کو اپنے اندر پید ا کر لیتا ہے اپنی ذات میں کامل ہو جاتا ہے۔اَعْطٰى میں اللہ تعالیٰ نے اعمال کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ روپیہ جمع نہیں کرتے۔اِتَّقٰی میں جذبات کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ بُری باتوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔پہلی سورتوں میں یہ ذکر کیا تھا کہ کفار کی یہ عادت ہے کہ وہ روپیہ قومی ضروریات کے لئے خرچ نہیں کرتے بلکہ لغو باتوں میںاس کو ضائع کر دیتے ہیں۔چنانچہ فرمایا تھا۔يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا (البلد:۷) وہ کہتا ہے میںنے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی تھی اور بتایا تھا کہ بے شک تم نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا مگر قومی ضروریا ت کے لئے نہیں، یتامیٰ اور مساکین کی خبر گیری کے لئے نہیں، غرباء کی ترقی کے لئے نہیں بلکہ اپنی عزت اور اپنے نام و نمود کے لئے۔اس لئے تمہارا وہ مال خرچ کرنا مال کو برباد کرنا تھا۔گویا خرچ