تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 87

تو اس نے بھی کیا تھا مگر غلط طریق پر۔اسی طرح فرمایا تھا۔وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا (الفجر: ۲۰) تم اپنے باپ دادا کی جائیدادوں کو تباہ کر دیتے ہو۔غرض پہلی سورتوں میں بتایا ہے کہ کفار اپنا مال خرچ تو کرتے ہیں مگر صحیح مقامات پر خرچ نہیںکرتے اسراف میں اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور جہاں خرچ کرنا ضروری ہوتا ہے وہاں بخل اور امساک سے کام لیتے ہیں۔اب یہ بتا تا ہے کہ مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اَعْطٰى وہ دیتا ہے یعنی قومی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور جب بھی کسی قربانی کی ضرورت ہو وہ فوراً اس کے لئے تیا ر ہو جاتا ہے۔یہاں یہ ایک نکتہ یاد رکھنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اَعْطَى الْمَالَ نہیں فرمایا بلکہ صرف اَعْطٰى کا لفظ استعمال کیا ہے۔درحقیقت یہ عربی زبان کا کمال ہے جو کسی اور زبان کو حاصل نہیں کہ کسی جگہ مفعول حذف کر کے اور کسی جگہ الفاظ کو اضافتوں سے آزاد کر کے معانی میں وسعت پیدا کر دی جاتی ہے۔اگر اَعْطَى الْمَالَ فرماتا تو اس کے معنے صرف مال خرچ کرنے کے ہوتے مگر اب چونکہ صرف اَعْطٰى فرمایا ہے اس لئے اس کے معنے اَعْطَى الْمَالَ کے بھی ہو سکتے ہیں اَعْطَى الْعِلْمَ کے بھی ہو سکتے ہیں۔اسی طرح ہر ایسی چیز کے ہو سکتے ہیں جو کسی کو دی جاسکتی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے قرآن کریم میںدوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (البقرۃ :۴)۔ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس کا ایک حصہ وہ بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرتے ہیں۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے عام رنگ میںانفاق کا ذکر کر کے اس کے معنوں کو وسیع کر دیا یعنی اس کے پاس مال ہو تو وہ مال خرچ کرتا ہے، علم ہو تو علم خرچ کرتا ہے، وقت ہو تو وقت خرچ کرتا ہے غرض جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہو وہ اسے لوگوں کی بھلائی کے لئے خرچ کرتا رہتا ہے۔اسی طرح اَعْطٰی میںاللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا دیتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ ساری چیزیں جو ا س کو حاصل ہوں لوگوں کے لئے خرچ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو طاقت دی ہو تو وہ طاقت دیتا ہے، وقت دیا ہو تو وقت دیتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی وقت کے لئے دینے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح مال دیا ہو تو مال دیتا ہے، اعلیٰ درجہ کے قویٰ عطا کئے ہوں تو ان سے ایسا کام لیتا ہے جو بنی نوع انسا ن کو فائدہ پہنچانے والا ہو۔غرض اَعْطٰى کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس کے معنوں کو وسیع کر دیا ہے۔پھر وَاتَّقٰی میںیہ بتایا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے تقویٰ کے ماتحت کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ میںغلطی سے کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھوں جس سے لوگوں کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچ جائے۔اگر کوئی شخص کسی کو اتنا روپیہ دے دیتا ہے کہ وہ اسے عیاشی میںضائع کرنا شروع کر دیتاہے تو یہ اس روپیہ کا بالکل غلط استعمال ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی شخص ظالم کو طاقت پہنچادیتا ہے تویہ بھی اس قوت کا برمحل استعمال نہیںہو گا۔اسی لئے اَعْطٰى کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وَاتَّقٰی کے الفاظ کا اضافہ کیا اور بتایا کہ وہ دیتا تو ہے مگر ساتھ ہی ڈرتا ہے