تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 84

ہیں مگر جو دولہا سے بھاگ جائیں ان کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی۔یہی حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخاطبین کا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ جانتے ہیں کہ ہم میں رجولیت والی طاقت نہیں بلکہ استفاضہ والی طاقت ہے اس لئے وہ اپنے روحانی دولہا کے پاس جاتے ہیں مگر تم میں وہ طاقت تو ہے نہیں کہ اپنے زور سے کوئی نتیجہ پیدا کر سکو۔صرف اللہ تعالیٰ نے تم میں استفاضہ والی قوت رکھی ہے مگر تم میں اپنی شامتِ اعمال سے ایسی بیماری پیدا ہوچکی ہے کہ تم دولہا کو پہچانتی تک نہیں اور اس سے دور بھاگ رہی ہو۔تمہاری حالت لیل والی ہے اور ان کی نہار والی۔وہ انثٰی ہونے کے لحاظ سے وقت کے دولہا کی طرف جا رہے ہیں اور تم دولہا سے بھاگ رہے ہو اور جب تمہاری اور ان کی حالت میںاس قدر نمایا ں فرق ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہیںترقی حاصل ہو، تمہارے ہاں بھی نورِ آسمانی کی پیدائش ہو اور تم بھی دنیا میں سربلند ہو؟روحانی ثمرات تو انہی سے پیدا ہوں گے تم سے نہیں اور آئندہ دنیا انہی دلہنوں سے آباد ہو گی جو دولہا کے ہاں جاتی ہیں۔ان سے آباد نہیں ہو سکتی جو دولہا کے قریب جانا پسند نہیں کرتیں۔تم مت خیال کرو کہ دنیا کی آئندہ ترقی میںتمہارا بھی کوئی حصہ ہو گا اب دنیا کی آبادی مسلمانوں کی وجہ سے ہو گی اور وہی قوم ترقی کرے گی جس پر دن چڑھا ہوا ہے اور جو قربانیوں سے کام لے رہی ہے۔تن آسانیوں کے لئے مرمٹنے والے وجود ان نعمتوں کو حاصل نہیں کر سکتے۔اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ تاریکی اور روشنی کا فرق اور نسائیت کاملہ والی اور بانجھ کا فرق بتاتا ہے اور ایک مثال کے ذریعہ اس امر کو واضح کر تا ہے۔فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ۰۰۶وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ۙ۰۰۷ پس جس نے (خد اکی راہ میں ) دیا اور تقویٰ (اختیار ) کیا۔اور نیک بات کی تصدیق کی۔فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ۰۰۸ اسے تو ہم ضرور آسانی (کے مواقع ) بہم پہنچا ئیں گے۔حلّ لُغات۔یَسَّـرَ یَسَّـرَ الشَّیْءَ لِفُلَانٍ کے معنے ہوتے ہیں سَھَّلَہٗ لَہٗ۔اس کے لئے ا س امر کو آسان کر دیا (اقرب) پس نُیَسِّـرُ کے معنے ہوں گے۔ہم آسان کر دیں گے۔تفسیر۔ترقی کرنے والی قوم کے افراد کی تین خصوصیات فرماتا ہے دن کی مثال اور