تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 83

لوگ کہتے ہیں کہ یہاں خنثٰی کا ذکر نہیں حالانکہ یہ اگر خنثٰی کا ذکر نہیں تو اور کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں افاضہ کی قوت ہے اور صحابہ میں استفاضہ کی قوت کامل طور پر پائی جاتی ہے۔مگر ا ے مکہ والو! تم میں نہ افاضہ کی قوت پائی جاتی ہے اور نہ استفاضہ کی، اس لئے تم روحانی طور پر خنثٰی ہو۔نہ ذکر ہو نہ انثٰی ہو۔نہ تم میں نر کی قابلیت موجو د ہے کہ تم دوسروں کو نور پہنچا سکو اور نہ تم میں نسائیت پائی جاتی ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اکتساب ِ نور کر سکو۔پھر تم دنیا میں ترقی کس طرح کر سکتے ہو تم تو خنثٰی ہو اور خنثٰی کی نسل نہیں چلتی۔پس روحانی دنیا کے کامل آدم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور روحانی دنیا کی کامل حوائیں صحابہ کرام ؓ ہیں اور خنثٰی مکہ کے منکرین ہیں۔اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰىؕ۰۰۵ کہ تمہاری کوششیں یقیناً مختلف ہیں۔حلّ لُغات۔شَتّٰی اَشْیَاءٌ شَتّٰی کے معنے ہوتے ہیں مُـخْتَلِفَۃٌ۔مختلف اشیاء (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے تمہاری اور مسلمانوں کی سعی آپس میں بڑا اختلاف رکھتی ہے۔تمہاری تمام سعی سونے کی تیاری میں ہے اور ان کی تمام سعی قومی بیداری اور ترقی کے لئے ہے۔تمہاری سعی تاریکی کے سردار شیطان کے حق میں ہے اور ان کی سعی خدا تعالیٰ کے حق میں ہے جو خود نور اور نور کا پیدا کرنے والا ہے۔پھر تمہاری اور ان کی کوششوں کا نتیجہ ایک کس طرح ہو سکتا ہے؟ تمہاری تمام سعی اس بات کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ بستر بچھائو۔تکیہ لگائو اور لحاف رکھو تا کہ ہم سو جائیں اور صحابہ ؓ کی تمام سعی اس بات کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ اٹھو ہل جو تو، زمینوں میں بیج ڈالو، زمین کو پانی دو اور کاشت کی اچھی طرح نگرانی کرو تا کہ اعلیٰ درجہ کی فصل تیار ہو۔اب تم خود ہی سوچ لو کہ سونے والے کچھ کمایا کرتے ہیں یا جاگنے والے کمایاکرتے ہیں؟ تم پر رات طاری ہے اور ان پر دن کی کیفیت طاری ہے جب تم دونوں کی کوششیں بالکل الگ الگ ہیں تو ان دونوںکا ایک نتیجہ کس طرح نکل سکتا ہے اور تم کس طرح خیال بھی کرسکتے ہو کہ رات کو سونے والوں اور دن کے وقت ہل جوتنے والوں کا ایک سا انجام ہو گا؟ اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى کے دوسرے معنے دوسرے معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ تم خنثٰی ہو اور نر سے بھاگ رہے ہو مگر یہ انثٰی ہیں اور نر سے بھاگ نہیں رہے بلکہ اس سے تعلق پیدا کر رہے ہیں اب تم خود ہی سمجھ لو کہ تمہارے ہاں روحانی اولاد کس طرح پیدا ہو سکتی ہے؟ اولاد انہی دلہنوں کے ہاں پیدا ہوتی ہے جو دولہا کی طرف جاتی