تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 82
آیت وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى میںمسلمانوں کے ترقی کر جانے کی وجہ کا ذکر اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی سلسلۂ پیدائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم دنیا میں غور کر کے دیکھ لو آئندہ نسلوں کی ترقی صرف ذَکر اور اُنثٰی سے ہوتی ہے ایک کے اندر افاضہ کا فعل پایا جاتا ہے اور دوسرے کے اندر استفاضہ کا فعل پایا جاتا ہے یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تب کوئی نتیجہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ دونوں آپس میں نہیںملیںگے تو کوئی نتیجہ پیدا نہیںہو گا۔وہ شخص جس میں افاضہ کا مادہ نہیں اگر وہ کہے کہ مجھے کسی دوسرے سے فیض حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تو وہ نادان ہو گا۔اسی طرح جس میں استفاضہ کا مادہ نہیں وہ بھی بغیر کسی دوسرے وجود کے اپنی قوت افاضہ کا اظہار نہیں کر سکتا۔یہ افاضہ اور استفاضہ کی قوتیںآپس میں لازم و ملزوم ہیں۔اگر کسی قوم کے افراد یہ کہیں کہ ہم خود کام کر سکتے ہیں ہمیں کسی دوسرے کی راہنمائی یا مدد کی ضرورت نہیں، کسی دوسرے کی قوت کے ہم محتاج نہیں، ہمارے بازوئوں میںاتنی طاقت موجود ہے کہ ہم بغیر کسی کی مدد کے ترقی کی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں مگران میں افاضہ کی قوت نہ پائی جاتی ہو تو ان کے سب دعاوی باطل ہوںگے۔جب ان میںافاضہ کی قوت ہی نہیں تو وہ بغیر کسی راہنما کی مدد کے آگے بڑھ ہی کس طرح سکتے ہیں؟ وہ اگر ترقی کر سکتے ہیں تو اسی صورت میں کہ ان میں استفاضہ کی قوت ہو۔ان میں یہ مادہ ہو کہ وہ دوسرے سے فیوض حاصل کر سکیںکیونکہ ان کی حیثیت ری فلیکٹر کی سی ہے وہ اصل روشنی نہیں بلکہ ایک آئینہ انعکاس ہیں۔اگر اصل روشنی وہ اپنے آئینہ ظلّیت میں منعکس نہیں کریںگے تو سوائے تاریکی اور اندھیر ے کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔بہرحال جس طرح نر اور مادہ کے باہمی اتصال سے نسل ترقی کرتی ہے اسی طرح قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ایک راہنما ایسا موجو د ہو جو قوت افاضہ اپنے اندر رکھتا ہو اور قوم کے افراد ایسے ہوں جو قوت استفاضہ اپنے اندر رکھتے ہوں۔اللہ تعالیٰ یہی مثال کفار کے سامنے پیش کرتا ہے اور انہیںبتاتا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تمہاری کوئی حیثیت ہی نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ ؓ کا باہمی جوڑ دنیا میں ایک زبردست نتیجہ پیدا کرے گا کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہیں جن میں قوتِ افاضہ کمال درجہ کی پائی جاتی ہے اور صحابہ کرام ٖؓ وہ ہیں جن میں قوتِ استفاضہ کامل طورپر پائی جاتی ہے۔وہ دونوں آپس میںمل بیٹھیں گے تو ایک نئی دنیا آباد کرنے کا باعث بنیں گے جس طرح مرد اور عورت آپس میں ملتے ہیں تو بچہ تولد ہوتا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا روحانی تعلق ایک نئی آبادی کا پیش خیمہ ہے۔مگر اے مکہ والو! تم وہ ہو کہ نہ تم میں ذَکر کی قابلیت پائی جاتی ہے اور نہ اُنْثٰی کی قابلیت پائی جاتی ہے تم اسی طرح سوتے سوتے مر جائو گے تمہاری غفلتیں تم کو ڈبو دیں گی کیونکہ تم نر تو ہو نہیں اور نسوانی طاقتیں اپنے اندر پیدا نہیں کرتے گویا مخنث کی صورت بن رہے ہو۔تم آئندہ کس نیک انجام یا بھلائی کی امید کر سکتے ہو؟