تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 80
خوابیدگی غالب رہتی ہے اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں رجولیت کا مادہ ہوتا ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں نسوانیت کا مادہ ہوتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو فیوض پہنچانے والے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو استفاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔جو لوگ افاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ ذَکر ہوتے ہیں اور جو لوگ استفاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ اُنثٰی ہوتے ہیں اور جو لوگ نہ افاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں نہ استفاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ خنثٰی ہوتے ہیں۔ان سے دنیا میںکبھی کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا۔فرماتا ہے وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى۔ہم نر و مادہ کی پیدائش کو بھی شہادت کے طورپر پیش کرتے ہیں یعنی نر میں افاضہ کی قوت ہوتی ہے اور وہ دوسرے کو بچہ دیتا ہے اور مادہ میں استفاضہ کی قوت ہوتی ہے اور وہ بچہ کو اس سے لیتی اور اس کی پرورش کرتی ہے۔یہی دو قوتیں ہیں جن کے ملنے سے دنیا میں اہم نتائج پیدا ہوتے ہیں اگر نر اور مادہ آپس میں نہ ملیں تو نسلِ انسانی کا سلسلہ بالکل منقطع ہو جائے۔بعض نے اس موقع پر اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى یعنی خدا تعالیٰ نے ذَکر اور اُنثٰی کو پیدا کیا ہے مگر اس نے خنثٰی کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ اسے کس نے پیدا کیا ہے۔مجھے علمی کتابوں میں اس قسم کا اعتراض پڑھ کر حیرت آئی ہے اور پھر اور زیادہ حیرت مجھے اس بات پر آئی ہے کہ مفسرین نے اس کا جواب دینے کی بھی کوشش کی ہے اور جواب یہ دیا ہے کہ جو ہمارے نزدیک خنثٰی ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ بہر حال یا ذَکر ہے یا اُنثٰی ہے اس سے باہر نہیں۔(فتح البیان زیر آیت ’’وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ‘‘) یہ بھی ایک مجبوری کا جواب ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خنثٰی کوئی پیدائش نہیں بلکہ وہ پیدائش کا ایک بگاڑ ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے شربت بناتے وقت پاس سے کوئی خاکروب پیشاب کا پاٹ لے کر گزرے اور ٹھوکر سے اچھل کر پیشاب کا کوئی قطرہ شربت کے گلاس میں جا گرے یا اپنا ہی بچہ کھڑے ہو کر پیشاب کر دے اور شربت میں کوئی قطرہ جا گرے تو ایسے شربت کو ہم شربت کی ایک قسم نہیںکہیں گے بلکہ یہ سمجھیں گے کہ وہ ناپاک شربت ہے۔کیا کوئی عقلمند دنیا میںایسا ہو سکتا ہے احمق ہی ہے جو یہ کہے کہ ایک شربت تو وہ ہوتا ہے جس میںایسنس ملا ہوا ہوتا ہے اور ایک شربت وہ ہوتا ہے جس میں پیشاب پڑا ہوا ہوتا ہے کیونکہ جس میںغلطی سے پیشاب کا کوئی قطرہ جا گرا ہے وہ شربت نہیں بلکہ ناپاک شدہ شربت ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو یا ذَکر پیدا کیا ہے یا اُنثٰی پیدا کیا ہے۔اگر ماں باپ اپنے اندر کوئی خرابی پیدا کر لیتے ہیں اور ان کی صحت میں اس قسم کا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے کہ بجائے ذَکر یا اُنثٰی کے خنثٰی پیدا ہو جاتا ہے تو یہ نہیںکہا جائے گا کہ یہ بھی ایک پیدائش ہے بلکہ صرف یہ کہا جائے گا کہ یہ پیدائش کا