تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 73

قرآن کریم پڑھنے کی اجازت اسلام کے دوسرے دور میں دی ہے ابتدائی دور میں نہیں دی جس کے صاف معنے یہ ہیںکہ قرآن کریم کا نزول گو حجازی زبان میں ہوا ہے مگر قرأتوں میں فرق دوسرے قبائل کے اسلام لانے پر ہوا۔چونکہ بعض دفعہ ایک قبیلہ اپنی زبان کے لحاظ سے دوسرے قبیلہ سے کچھ فرق رکھتا تھا اور یا تو وہ تلفظ صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتاتھا یا ان الفاظ کا معنوں کے لحاظ سے فرق ہو جاتا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت بعض اختلافی الفاظ کے لہجہ کے بدلنے یا اس کی جگہ دوسرا لفظ رکھنے کی اجازت دے دی۔مگر اس کا آیات کے معانی یا ان کے مفہوم پر کوئی اثر نہیںپڑتا تھا بلکہ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو فرق پڑتا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سورۃ عبداللہ بن مسعودؓ کو اور طرح پڑھائی اور حضرت عمرؓ کو اور طرح پڑھائی کیونکہ حضرت عمرؓ خالص شہری تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ گڈریا تھے اور اس وجہ سے بدوی لوگوں سے ان کا تعلق زیادہ تھا۔پس دونو ں زبانوں میں بہت بڑا فرق تھا۔ایک دن عبداللہ بن مسعود ؓ قرآن کریم کی وہی سورۃ پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پاس سے گذرے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو کسی قدر فرق سے اس سورۃ کی تلاوت کرتے سنا۔انہیں بڑا تعجب آیا کہ یہ کیا بات ہے کہ الفاظ کچھ اور ہیںاور یہ کچھ اور طرح پڑھ رہے ہیں۔چنانچہ انہوںنے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گلے میں پٹکا ڈالا اور کہا چلو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میںابھی تمہارا معاملہ پیش کرتا ہوں تم سورۃ کے بعض الفاظ اور طرح پڑھ رہے ہو اور اصل سورۃ اور طرح ہے۔غرض وہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ آپ نے یہ سورۃ مجھے اور طرح پڑھائی تھی اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور طرح پڑھ رہے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا تم یہ سورۃ کس طرح پڑھ رہے تھے؟ وہ ڈرے اور کانپنے لگ گئے کہ کہیں مجھ سے غلطی نہ ہو گئی ہو مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈرو نہیںپڑھو۔انہوں نے پڑھ کر سنائی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکل ٹھیک ہے۔حضرت عمر ؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو مجھے اور طرح پڑھائی تھی۔آپ ؐ نے فرمایا وہ بھی ٹھیک ہے پھر آپؐ نے فرمایا قرآن کریم سات قرأتوں میں نازل کیا گیا ہے تم ان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑا نہ کرو۔اس فرق کی وجہ در اصل یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا عبداللہ بن مسعود ؓ گڈریا ہیں۔اور ان کا اور لہجہ ہے اس لئے ان کے لہجہ کے مطابق جو قرأت تھی وہ انہیں پڑھائی۔حضرت عمر ؓ کے متعلق آپ ؐ نے سوچا کہ یہ خالص شہری ہیں اس لئے انہیں اصل مکی زبان کی نازل شدہ قرأت بتائی۔چنانچہ آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو ان کی اپنی زبان میں سورۃ پڑھنے کی اجازت دے دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خالص شہری زبان میں وہ سورۃ