تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 72

اکابر صحابہؓ ہوتے تھے ان کی صحبت اور ان کی نقل کی طبعی خواہش بھی زبان میںیک رنگی پید ا کرتی تھی۔پس گو ابتداء میں تو لوگوں کو قرآن کریم کی زبان سمجھنے میں دقتیں پیش آتی ہوں گی مگر مدینہ کے دارالحکومت بننے کے بعد جب تمام عرب کا مرکز مدینہ منورہ بن گیا اور قبائل اور اقوام نے بار بار وہاں آنا شروع کر دیا تو پھر اس اختلاف کا کوئی امکان نہ رہا۔کیونکہ اس وقت تمام علمی مذاق کے لوگ قرآنی زبان سے پوری طرح واقف ہو چکے تھے۔چنانچہ جب لوگ اچھی طرح واقف ہو گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دے دیا کہ آئندہ صرف حجازی قرأت پڑھی جائے اور کوئی قرأت پڑھنے کی اجازت نہیں۔آپ کے اس حکم کا مطلب یہی تھا کہ اب لوگ حجازی زبان کو عام طور پر جاننے لگ گئے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ انہیں حجازی عربی کے الفاظ کا بدل استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔حضرت عثمان ؓ کے اس حکم کی وجہ سے ہی شیعہ لوگ جو سنّیوں کے مخالف ہیں کہا کرتے ہیں کہ موجودہ قرآن بیاضِ عثمانی ہے حالانکہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک عربوں کے میل جول پر ایک لمبا عرصہ گذر چکا تھا اور وہ آپس کے میل جول کی وجہ سے ایک دوسرے کی زبانوں کے فرق سے پوری طرح آگاہ ہو چکے تھے۔اس وقت اس بات کی کوئی ضروت نہیںتھی کہ اور قرأتوں میںبھی لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی اجازت دی جاتی۔یہ اجازت محض وقتی طور پر تھی اور اس ضروت کے ماتحت تھی کہ ابتدائی زمانہ تھا قومیں متفرق تھیں اور زبان کے معمولی معمولی فرق کی وجہ سے الفاظ کے معانی بھی تبدیل ہو جاتے تھے اس نقص کی وجہ سے عارضی طور پر بعض الفاظ کو جو ان قبائل میں رائج تھے اصل وحی کے بدل کے طور پر خدا تعالیٰ کی وحی کے مطابق پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی تا کہ قرآن کریم کے احکام کے سمجھنے اور ا س کی تعلیم سے روشناس ہونے میں کسی قسم کی روک حائل نہ ہو اور ہر زبان والا اپنی زبان کے محاورات میں اُس کے احکام کو سمجھ سکے اور اپنے لہجہ کے مطابق پڑھ سکے۔جب بیس سال کا عرصہ اس اجازت پر گذر گیا، زمانہ ایک نئی شکل اختیار کر گیا، قومیں ایک نیا رنگ اختیار کر گئیں، وہ عرب جو متفر ق قبائل پر مشتمل تھا ایک زبردست قوم بلکہ ایک زبردست حکومت بن گیا، آئینِ ملک کا نفاذ اور نظامِ تعلیم کا اجراء ان کے ہاتھ میں آگیا، مناصب کی تقسیم ان کے اختیار میں آ گئی، حدوداور قصاص کے احکام کا اجراء انہوں نے شروع کر دیا تو اس کے بعد اصلی قرآنی زبان کے سمجھنے میں لوگوں کو کوئی دقت نہ رہی اور جب یہ حالت پیدا ہو گئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس عارضی اجازت کو جو محض وقتی حالات کے ماتحت دی گئی تھی منسوخ کر دیا اور یہی اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا مگر شیعہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا قصور اگر قرار دیتے ہیں تو یہی کہ انہوں نے مختلف قرأتوں کو مٹا کر ایک قرأت جاری کر دی۔حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مختلف قرأتوں میں