تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 580
وَرَضُوْا عَنْهُ ایک معیار ہے جو ہر سچے مذہب میں پایاجاتا ہے۔جو مذہب صرف ایک طرف کی چیز پیش کرتا ہے دوسری طرف کی نہیں وہ مذہب کچھ بھی چیز نہیں۔جیسے عیسائی ہیں کہ وہ شریعت کو لعنت قرار دے رہے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ اُن کو خواہ کتنا بُلائے وہ اس سے کبھی نہیں بولیں گے کیونکہ انہوںنے شریعت کو لعنت قرار دیا ہوا ہے۔جب شریعت اُن کے نزدیک لعنت ہے تو وہ اُس پر عمل کس طرح کر سکتے ہیں اور عمل کے نتائج اُن کو کس طرح حاصل ہو سکتے ہیں۔اِس کے مقابل میں یہودیوں کو دیکھ لو یا موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر ہی نظر دوڑاؤ تمہیں دکھائی دے گا کہ وہ تسبیح پھیر رہے ہیں، ناکیں رگڑ رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرکت ہی نہیں ہوتی۔مذہب یہی ہے کہ اِدھر بندہ کی طرف سے عبادت ہو اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ہو۔بندہ اپنے رب سے راضی ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے راضی ہو۔ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ۔یہ آیت اس غرض کے لئے نازل کی گئی تھی کہ آئندہ زمانہ میں مسلمان یہ نہ سمجھ لیں کہ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کا مقام صرف صحابہؓ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں نے باوجود اِس واضح آیت کے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کا انعام صرف صحابہؓ کے ساتھ مختص تھا اب آئندہ یہ انعام کسی اور شخص کو نہیں مل سکتا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ۔اس میں صحابہؓ کی کوئی خصوصیت نہیں اُنہوں نے چونکہ اپنے اندر وہ صفات پیدا کر لی تھیں جو ہم چاہتے تھے اِس لئے اُنہیں یہ مقام حاصل ہو گیا اب اگر کوئی اور شخص یہ صفت اپنے اندر پیدا کر لے توہم اسے بھی یہ مقام دینے کے لئے تیار ہیں۔یہ انعام کسی خاص قوم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ صفات حسنہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جو لوگ اپنے اندر ہماری بیان کردہ صفات پیدا کر لیں ہم انہیں فوراً اپنا انعام دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںمسلمانوں کی ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کسی خاص فرد یا کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ ہماری یہ بات ہر اُس شخص کے متعلق پوری ہوجائے گی جو اپنے رب کی خشیت دل میں پیدا کرے۔یہ سوال نہیں کہ زید کرے گا تو اُسے یہ انعام ملے گا اور بکر کرے گا تو اُسے نہیں ملے گا بلکہ ہمارا دروازہ اور ہماری رضا کے مقام کا حصول ہر شخص کے لئے کھلا ہے جو شخص اِس انعام کا طالب ہے وہ آئے اور ہماری رضا حاصل کر لے۔ذٰلِكَ لِمَنْ میں ذٰلِكَ سے مراد رضا ذٰلِكَ کا اشارہ رضا کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ ہماری رضا