تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 577
پر شَـرُّ الْبَـرِیَّۃ اور خَــیْـــرُ الْــبَـرِیَّۃ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ہے وہ پہلے تمام انبیاء کے دشمنوں سے بدتر ہیں اور وہ لوگ جنہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے وہ پہلے تمام انبیاء کی اُمتوں سے اچھے ہیں۔پس شَـرُّ الْبَـرِیَّۃ اور خَیْـرُ الْبَـرِیَّۃ کے الفاظ موجودہ زمانہ کی مخلوق کے لحاظ سے نہیں کہ یہ سوال پیدا ہو کہ جب مومنوں کے سوا اور کوئی مومن ہی نہیں تو وہ اچھے کس سے ہوئے؟ اور جب کفار کے سوا اور کوئی کافر ہی نہیں تو وہ برے کس سے ہوئے؟ بلکہ یہ الفاظ پہلے زمانہ کے لوگوں کے مقابل میں ہیں۔اور اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ کے معنے یہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر موسٰی کے منکروں سے بھی بد تر ہیں۔عیسٰیؑ کے منکروں سے بھی بدتر ہیں۔کرشنؑ کے منکروں سے بھی بدتر ہیں۔زرتشتؑ کے منکروں سے بھی بد تر اور اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ کے معنے یہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن موسٰی کے مومنوں سے بھی اچھے ہیں۔عیسٰیؑ کے مومنوں سے بھی اچھے ہیں کرشنؑ کے مومنوں سے بھی اچھے ہیں۔زرتشتؑ کے مومنوں سے بھی اچھے ہیں۔غرض اُن کا مقابلہ پہلی اقوام کے ساتھ کیا گیا ہے اور اس مقابلہ کی بناء پر ہی کفار کو شَـرُّ الْبَـرِیَّۃ اور مومنوں کو خَیْـرُ الْبَـرِیَّۃ کہا گیا ہے کیوں؟ اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تعلیم لائے تھے جو فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ کی مصداق تھی، جو صحفِ مطہّرہ پر مشتمل تھی اور جس میں تمام انبیاء سابقین کی اعلیٰ تعلیم شامل تھی۔پس نوحؑ کی اُمّت نے صرف نوحؑکی تعلیم پر عمل کیا، موسٰی کی اُمت نے صرف موسٰی کی تعلیم پر عمل کیا۔عیسٰیؑ کی اُمّت نے صرف عیسیٰؑ کی تعلیم پر عمل کیا۔کرشنؑ کی اُمّت نے صرف کرشنؑ کی تعلیم پر عمل کیا۔زرتشتؑ کی اُمّت نے صرف زرتشتؑکی تعلیم پر عمل کیا۔مگر فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ کے ماتحت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نے نوحؑکی تعلیم پر بھی عمل کیا، موسٰی کی تعلیم پر بھی عمل کیا، عیسٰیؑ کی تعلیم پر بھی عمل کیا، کرشنؑ کی تعلیم پر بھی عمل کیا، زرتشتؑکی تعلیم پر بھی عمل کیا۔جس قوم نے سب نبیوں کی تعلیم پر عمل کر لیا وہ پہلی تمام اقوام سے اچھی نہیں ہوگی تو کیا ہوگی۔فرض کرو زید کے پاس آنہ ہے، بکر کے پاس دونّی ہے، عمرو کے پاس چونّی ہے، خالد کے پاس اٹھنّی ہے، سلیم کے پاس روپیہ ہے۔اِسی اثناء میں ایک اور آدمی باہر سے آجاتا ہے اُس کا نام عبد اللہ ہے اور اُس کے پاس روپیہ بھی ہے، اٹھنّی بھی ہے، چونّی بھی ہے، دونّی بھی ہے اور اکنّی بھی ہےتو لازماً عبد اللہ، زید سے بھی مالدار ہوگا، بکر سے بھی مالدار ہوگا، عمرو سے بھی مالدار ہوگا، خالد سے بھی مالدار ہوگا اور سلیم سے بھی مالدار ہوگا۔پس چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً اور قرآن کریم کے متعلق یہ بتایا گیا تھا کہ فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ اس لئے فرمایا کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ