تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 54

کے مطابق نبی کا قمر ہوتاہے اور اپنے اپنے رنگ میں کامل تعلیم پر چلنے کے نتیجہ میںفلاح حاصل کر لیتا ہے گویا پہلے معنوں کے رو سے قَدْ اَفْلَحَ میں وحیٔ جلی کا ذکر ہے اور اَلْھَمَھَا میں وحیٔ خفی کا۔اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے پہلی آیت میںوحیٔ جلی کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں وحیٔ تابع کا ذکر ہے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا میں اس وحیٔ جلی کا ذکر ہے جو نبی پر نازل ہوتی ہے اور قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا میں وحیٔ تابع کا ذکر ہے گویا وہ نور جو پہلے باہر سے آیا تھا نبی کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میںانسان کے اندر بھی پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ۰۰۱۱ اور جس نے اسے (مٹی میں ) گاڑ دیا (سمجھو کہ ) وہ نامراد ہو گیا۔حلّ لُغات۔خَابَ خَابَ : اَفْلَحَ کے مقابل کا لفظ ہے اور اس کے معنے ہوتے ہیں ناکام ہوا۔نامراد ہوا۔(اقرب) دَسّٰی : دَسٰی سے مزید ہے اور دَسٰی یَدْسُوْا (دَسْوًا وَ دَسٰی یَدْسَی دَسْیًا) کے معنے ہیں۔نَقِیْضُ نَـمٰی وَزَکٰی یعنی یہ نَـمٰی اور زَکٰی کے مقابل کے الفاظ ہیں اور اس میں ان کے الٹ معنے پائے جاتے ہیں یعنی وہ نہ بڑھا۔اور اس میںبرکت نہ ہوئی اور دَسّٰی کے معنے ہیں اَغْوَاہُ وَ اَفْسَدَہُ۔اس کو گمراہ کیا اور خراب کیا (اقرب) بعض نے دَسّٰھَا کا اصل دَسَّسَھَا قرار دیا ہے اس لحاظ سے اس کا اصل دَسَّ ہوگا۔دَسَّ الشَّیْءَ (دَسًّا) تَـحْتَ التُّرَابِ کے معنے ہوتے ہیں اَدْخَلَہٗ فِیْہِ وَدَفَنَہٗ تَـحْتَہٗ وَ اَخْفَاہُ کسی چیز کو زمین میں دبا دیا یا زمین کے نیچے دفن کر دیا اور دَسَّسَ کے معنے بھی یہی ہوتے ہیں۔مگر دَسَّسَ دَسَّ سے زیادہ قوی ہوتا ہے اور مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے(اقرب) پس جب یہ لفظ کسی کے متعلق استعمال کیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی طاقتوں کو ابھارتا اس نے ان کو مٹا دیا۔اسی طرح اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ا س نے ان کو مٹی میں ملا دیا۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ جس نے اس وحی کو نہ مانا وہ ناکام ہوا کیونکہ وحیٔ الٰہی فطرت کی طاقتوں کو ابھار نے کے لئے آتی ہے جس نے اِسے رد کر دیا اُس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔اسلام کی ایک خوبی حقیقت یہ ہے کہ صحیح تعلیم ہمیشہ فطرت کے مطابق ہوتی ہے۔جو تعلیم فطرت کے جذبات کو کچلنے والی ہو وہ سچی نہیںہو سکتی کیونکہ وحی اس لئے ناز ل ہوتی ہے کہ نفس کو اونچا کیاجائے اس لئے نازل نہیںہوتی کہ