تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 575
ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے اس آیت کی یہ تشریح کی ہے کہ ذٰلِکَ دِیْنُ الْمِلَّۃِ الْقَیِّمَۃِ۔دوسرے اِس آیت سے ایک دین ماننا ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس جگہ پر تو باقی تمام مقامات سے زیادہ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہوو اور نصاریٰ کا دین مختلف ہے تبھی تو قرآن کریم کے متعلق صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً اور فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ کہا گیا ہے تعجب ہے کہ جس جگہ قرآن کریم نے اختلاف پر زوردیا ہے وہیں ویری صاحب کو یہ اعتراض سوجھا ہے کہ اسلام مسیحیت اور یہودیت سب کو ایک ہی مذہب قرار دیا گیا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کفر پر قائم رہنے والے لوگ یقیناً جہنم کی آگ میں (داخل) ہوں گے جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِؕ۰۰۷ (اور وہ)اُس میں رہتے چلے جائیں گے۔وہی لوگ ( ہاں وہی لوگ) بد ترین خلائق ہیں۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ ( اس کے مقابل پر ) وہ لوگ جو (اہل کتاب اور مشرکوں میں سے )ایمان لے آئے اور انہوں نے (ایمان کے ) اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِؕ۰۰۸ مناسب حال عمل بھی کئے وہ لوگ ہاں وہی لوگ بہترین خلائق ہیں۔تفسیر۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ میں مِنْ بعضیہ میں نے جہاں لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ میں مِنْ کو بیانیہ قرار دیا تھا وہاں میرے نزدیک اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا میں مِنْ بعضیہ ہے اور كَفَرُوْا سے نا واقفیت کا کفر مراد نہیں بلکہ وہ کفر مراد ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے اختیار کیا جاتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی یہ سزا ہو گی کہ وہ جہنم کی آگ میں داخل کئے جائیں گے اور اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ سزا بتلا رہی ہے کہ یہاں اہل کتاب اور مشرکین میں سے ایسے کفار کا ہی ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے جان بوجھ کر کفر کیا۔جن پر حُجت کا اتمام ہو گیا اور جن کا اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی عُذر قابلِ شنوائی نہ رہا۔ایسے لوگوں کے متعلق