تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 574
گئی ہے یہ معنے کہ صحیح راستہ پر چلنے والی، دنیا میں قائم رہنے والی اور تباہی سے بچنے والی قوم کی یہ علامات ہوا کرتی ہیں اُس کی ذاتی خوبی پر دلالت کرتے ہیں اور یہ معنے کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ دنیا کا متولی اور حاکم بنائے اور اُسے اپنے اندر تمام بیان کردہ خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں ورنہ وہ حکومت کی ذمہ واریوں کو صحیح طور پر ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی، اُس کے نسبتی کمالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔افسوس کہ مسلمانوں نے اُن اخلاق کو جو یہاں بیان ہوئے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تھوڑے عرصہ بعد ہی چھوڑ دیا اور جوں جوں وہ ان اخلاق کو چھوڑتے چلے گئے اللہ تعالیٰ بھی اُن کو چھوڑتا چلا گیا۔اب احمدیت کے لئے موقعہ ہے کہ وہ اِن اخلاق کو دوبارہ قائم کرے۔مگر یہ اخلاق کبھی مستقل طور پر قائم نہیں رہیں گے جب تک کہ قرآن کریم لوگوں کے دماغوں میں بار بار اور زور سے داخل نہ کیا جائے گا اور اُسے ساری قوم میں زندہ نہ کیا جائے گا۔ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ پر ویری کا بودا اعتراض ویری نے اس جگہ ایک عجیب اعتراض کیا ہے وہ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ کا ترجمہ کرتا ہے۔’’ یہ سچا دین ہے‘‘ اورپھر اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محمد صاحب سمجھتے تھے۔اسلام یہودیت اور مسیحیت ایک ہی مذہب ہے یعنی انہوں نے ان تینوں مذاہب کی ایک ہی تعلیم بتائی اور کہہ دیا کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب کایہی مذہب ہے۔گویا دائمی مذہب کے معنے اُنہوں نے یہ لئے کہ آدم سے لے کر آج تک دنیا کا ایک ہی مذہب رہا ہے ( مسلمانوں میں سے بھی بعض بے وقوف یہی عقیدہ رکھتے ہیں ) اور چونکہ یہ بات غلط ہے اس لئے اُنہوں نے اپنے جھوٹا نبی ہونے کا آپ ہی ثبوت مہیا کر دیا ہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry vol:iv P:266) اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو پادری صاحب نے اس آیت کا ترجمہ غلط کیا ہے ( ترجمہ توسیل کا ہے مگر چونکہ انہوں نے اس ترجمہ کو قبول کر کے اعتراض کیا ہے اس لئے یہ ترجمہ انہی کی طرف منسوب ہو گا) (The Koran by Sale vol۔ii P۔494) اس کا ترجمہ ’’ سچا دین‘‘ نہیں بلکہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ’’ یہ قائم رہنے والی قوم کا دین ہے ‘‘ یا ’’قائم رہنے والی قوم کی حالت ہے ‘‘ کیونکہ قَیِّمَۃ دین کی صفت نہیں ہے اور عربی زبان کے قواعد کے مطابق ایسا ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ دین مذکر ہے اور قیّمہ مؤنث ہے اور مذکر کی صفت مؤنث نہیں بن سکتی۔پس عربی زبان کے قواعد کے رو سے قَیِّمَۃ کا موصوف مخدوف سمجھنا ہو گا اور وہ سیاق و سباق عبارت سے اَلْمِلَّۃ یا ایسا ہی کوئی لفظ ہو سکتا ہے اور اسی عربی قاعدہ کو