تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 573
ہوتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جس قوم کو اﷲ تعالیٰ متولی بنائے اُسے ایسے ہی خصائل اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں۔مطلب یہ ہے کہ جس قوم میں یہ علامات پیدا ہو جائیں اﷲ تعالیٰ اُسے دنیا کا متولّی بنا دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ میں اﷲ تعالیٰ نے دو امور کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔اقامتِ صلوٰۃ میں اﷲ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ مومن اﷲ تعالیٰ سے صلح رکھتے اور اس کے حقوق کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور ایتاء زکوٰۃ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ مومن بنی نوع انسان سے حسنِ سلوک کرتے، اُن کی خدمت میں پورے جوش سے حصہ لیتے اور اُن کے حقوق کو پوری تندہی سے ادا کرتے ہیں۔اب فرماتا ہے ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ۔جو اُمت دنیا میں قائم رہنا چاہے اُسے ایسا ہی طریق اختیار کرنا چاہیے یعنی اگر انسان اﷲ تعالیٰ سے بھی صلح رکھیں اور بنی نوع انسان سے بھی صلح رکھیں تو اُن پر کبھی تباہی نہیں آ سکتی۔بگاڑ ہمیشہ اُسی وقت پید اہوتاہے جب لوگ یا تو خدا تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کر لیتے ہیں اور اُس کی طرف سے عذاب اور تباہیاں آنے لگتی ہیں یا پھر بنی نوع انسان کو اپنے خلاف بھڑکا لیتے ہیں اور اِس کے نتیجہ میں بغاوت، ڈاکے، قتل اور خونریزیاں شروع ہو جاتی ہیں۔دنیا میں عذاب آخر کیوں آتا ہے۔طاعون دنیا میں کیوں آئی۔زلازل کیوں آ رہے ہیں؟ اسی لئے کہ لوگوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات بگاڑ لئے۔اس کے مقابل میں لوگ آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟ اسی لئے کہ کچھ لوگ دوسروں پر ظلم کرتے اور اُن کے حقوق کی ادائیگی میں پس و پیش سے کام لیتے ہیں جب یہ بات لوگوں کی قوتِ برداشت سے بڑھ جاتی ہے تو وُہ لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔یہی فساد کی دو وجوہ ہیں یا اللہ تعالیٰ سے بگاڑ۔یا بنی نوع انسان سے بگاڑ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی قوم اقامت الصلوٰۃ اور ایتائِ زکوۃ پر عمل کر لے خدا تعالیٰ سے بھی صلح رکھے اور اُس کے بندوں سے بھی۔تو اُس پر کبھی تباہی نہیں آ سکتی۔تباہی کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات بگاڑ لیتے ہیں اور اُن پر عذاب آنا شروع ہو جاتا ہے۔اِسی طرح بندوں سے اپنے تعلقات بگاڑ لیتے ہیں اور لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے کیاپیغام لائے تھے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ سے بھی صلح کر لو اور اُس کے بندوں سے بھی صلح کر لو تا کہ تم ہر قسم کے زوال سے محفوظ رہو۔اس میں بھلا کون سی چیز تھی جس کی بناء پر لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت شروع کر دی؟ یہ بات تو سراسر اُن کے فائدہ کے لئے کہی گئی تھی مگر اُنہوں نے اُلٹا اپنے محسن کے خلاف جنگ شروع کر دی۔دوسرے معنوں کے لحاظ سے اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ دنیا میں متولی بنائے اُسے ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے ورنہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں سخت کوتاہی سے کام لینے والی سمجھی جائے گی۔ایک معنوں کے لحاظ سے قوم کی ذاتی خوبی بیان کی گئی ہے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے اس کی نسبتی خوبی بیان کی