تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 571
کجا یہ کہ اُسے نیک اور خدارسیدہ سمجھا جائے۔پس وہ لوگ جن کو دوسری قومیں محض علیحدگی میں عبادت کرنے کی وجہ سے بزرگ قرار دیتی ہیں اسلام اُن کو مرتد اور مردود قرار دیتا ہے۔دنیا اُن کو خدا رسیدہ سمجھتی ہے اور اسلام اُن کو اﷲ تعالیٰ کے قرب سے راندہ ہوا سمجھتا ہے۔کیونکہ اسلام کہتا ہے۔يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ہم نے تمہیں صرف اتنا حکم نہیں دیا کہ تم نمازیں پڑھو بلکہ ہمارا حکم یہ ہے کہ تم لوگوں کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھو اور اپنی ہی حالت کو درست نہ کرو بلکہ ساری قوم کو سہارا دے کر اُس کی روحانیت کو بلند کرو اور قوم سے دُور نہ بھاگو بلکہ اس کے ساتھ رہو اور ہوشیار چوکیدار کی طرح اُس کے اخلاق اور اُس کی روحانیت کا پہرہ دو۔اقامتِ صلوٰۃ کے بعد ایتاء زکوٰۃ کا حکم دینے کی حکمت اس آیت میں دوسرا حکم زکوٰۃ کا دیا گیا ہے اور قرآن کریم میں جہاں بھی ایتائِ زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے۔ہمیشہ اقامتِ صلوٰۃ کے بعد آتا ہے۔اس میں ایک نہایت ہی لطیف اشارہ اس امر کی طرف پایا جاتا ہے کہ جب تک کوئی شخص اپنی قوم کی شکستہ حالی سے واقف نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ اُن کی کوئی خدمت بھی نہیں کر سکتا۔وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں جا کر بیٹھ رہا ہے اور دن رات سبحان اﷲ سبحان اﷲ کہتا رہتاہے اُسے کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں یا غُرباء ننگے پھر رہے ہیں یا مساکین پیسہ پیسہ کے لئے دربدر خاک چھان رہے ہیں یا روپیہ کی کمی کی وجہ سے وہ علم سے محروم ہو رہے ہیں۔اُسے اِن میں سے کسی بات کا بھی علم نہیں ہو سکتا اور جب علم نہیں ہو گا تو وہ اپنی قوم کے لئے کوشش کیا کرے گا۔غرباء کے لئے جدوجہد یا مساکین کی ترقی کے لئے کوشش اُسی وقت ہو سکتی ہے جب انسان کو علم ہو کہ اُس کی قوم میں غرباء پائے جاتے ہیں، اُس کی جماعت میں مساکین موجود ہیں اور اُس کا فرض ہے کہ وہ بھوکوں کو کھانا کھلائے، پیاسوں کو پانی پلائے، ننگوں کو کپڑے دے اور بیماروںکا علاج کرے اور یہ علم اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا عادی نہ ہو۔جب وہ مسجد میں آ ئے گا تو دیکھے گا کہ اُس کے پاس ہی ایک طرف تو ایسا شخص کھڑا ہے جس نے اعلیٰ درجہ کا لباس پہنا ہوا ہے ، قیمتی عطر لگایا ہوا ہے، باصحت اور تنومند ہے اور دوسری طرف ایک ایسا شخص کھڑا ہے جس کے پھٹے پُرانے کپڑے ہیں، اُس کے لباس اور جسم کی بدبو سے دماغ پھٹا جاتا ہے اور اُس کے چہرہ پر جُھریاں پڑی ہوئی ہیں۔وہ یہ نظارہ دیکھے گا تو اُس کا دل تڑپ اُٹھے گا اور کہے گا میرا فرض ہے کہ میں قوم کے غرباء کے لئے اپنا روپیہ خرچ کروں اور اُن کی تکالیف کو دور کروں۔یا وہ مسجد میں جائے گا تو دیکھے گا کہ وہاں ایک نوجوان بیٹھا ہے۔بیس پچیس سال اُس کی عمر ہے، اُٹھتی جوانی کا زمانہ ہے۔مگر اُس کی حالت یہ ہے کہ کلے پچکے ہوئے ہیں،