تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 568
پھر اُن کو چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہی نیکی مقبول ہو سکتی ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے اور یہ دوام پیدا نہیں ہو سکتا جب تک انسان کے اندر استقلال کا مادہ نہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دینے کے بعد کہ تمہاری اطاعت اور تمہارا غلبہ اور تمہارا حکم اور تمہاری سیرۃ اور تمہاری تدابیر اور تمہاری عبادات اور تمہاری نیکی اور تمہاری عادات سب کی سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہئیں۔حُنَفَآءَ کہہ کر یہ مزید حکم دے دیا کہ جب ایسے میلانات تمہارے اندر پیدا ہو جائیں تو پھر اُن پر ثابت قدم رہو ایسا نہ ہو کہ سستی کر کے اس مقام پر سے تمہارا قدم لڑ کھڑا جائے اور تمہاری نیکیاں سب ضائع چلی جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہی عبادت نفع رکھتی ہے جس میں دوام پایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی ایک بیوی نے چھت سے ایک رسّہ لٹکا رکھا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کیسا رسّہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ یہ اس لئے ہے کہ جب عبادت کرتے کرتے اُونگھ آنے لگے تو اس سے سہارا لے لیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِسے کھول دو۔اللہ تعالیٰ کو وہی عبادت پسند ہے جس میں دوام پایا جائے اگرچہ وہ کتنی ہی قلیل ہو۔وہ عبادت پسند نہیں جس کے نتیجہ میں انسان کی طبیعت میں ملال پیدا ہو جائے اور چند دن کے بعد وہ اس کو ترک کرنے پرمجبور ہو جائے۔(بـخاری کتاب التـھجد باب ما یکرہ من التشدید فی العبادۃ) بعض لوگ غلطی سے اس کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ کسی دن کم اور کسی دن زیادہ عبادت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیشہ ایک جیسی عبادت کرنی چاہیے مگر یہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔کیونکہ انسان بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے زیادہ عبادت نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ تو اُس کے چھوڑنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ آپ رات کو پورے آٹھ نفل نہیں پڑھ سکے (مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصـرھا باب جامع صلاۃ اللّیل و من نام عنہ او مرض) پس اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ تم نفلی عبادات کو کم و بیش نہ کرو بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب تم کوئی عبادت شروع کرو تو پھر اُسے کرتے چلے جائو۔یہ نہ ہو کہ چند دن نفل پڑھو اور پھر چھوڑ دو۔یا بعض دفعہ تو ساری ساری رات تہجدپڑھتے رہو اوربعض دفعہ دونفل بھی نہ پڑھو۔یہ عدم استقلال کا مرض ہے جس سے ہر مومن کو کلّی طور پر محفوظ ہونا چاہیے اور اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ نیکی وہی ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے۔