تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 567
پڑے تو اُن کے قدم ڈگمگا جائیں گے کیونکہ جہاد میں یہ چیزیں میسر نہیں آ سکتیں۔لڑائی میں بسا اوقات انسان کو کئی کئی وقت کا فاقہ کرنا پڑتا ہے۔بسا اوقات جنگلوں میں راتیں گذارنی پڑتی ہیں ، بسا اوقات نہایت معمولی اور ردّی غذا کھا کر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ایسے مواقع پروہ شخص جسے شراب کی عادت ہو یا افیون کی عادت ہو یا حقہ اور نسوار کی عادت ہو کبھی دلیری سے آگے نہیں آ سکتا کیونکہ اُس کی عادات اِس قربانی میں دیوار بن کر حائل ہو جائیں گی اور وہ سمجھے گا کہ اگر میں اس جنگ میں شامل ہوا تو مجھے سخت تکلیف اُٹھانی پڑے گی۔موجودہ جنگ میں سپاہیوں کی سب سے بڑی شکایت یہی تھی کہ ہمیں شراب نہیں ملتی ہمیں سگرٹ نہیں ملتے اور یہ شکایت اس قدر بڑھ گئی کہ انگریز افسروں کے لئے اس کا ازالہ کرنا بالکل نا ممکن ہو گیا۔چنانچہ پارلیمنٹ کے موجودہ انتخابات میں مسٹر چرچل کی شکست کی وجہ بھی یہی ہوئی کہ فوجیوں کے ووٹ سب اُن کے خلاف تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ایسی گورنمنٹ ہر گز قائم رہنے کی مستحق نہیں جس نے لڑائی میں ہمارے لئے شراب مہیا نہیں کی، جس نے کثرت سے ہمیں سگرٹ نہیں پہنچائے اور اس طرح وہ ہماری تکلیف کا موجب ہوئی ہے۔حالانکہ انگریز افسر بھی سچے تھے وہ لڑائی کا سامان جمع کرتے یا شرابیں اور سگرٹ تیار کر کر کے فوجیوں کو بھجواتے؟ پس اس آیت میں مومنوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ سوائے ذکر الٰہی اور نیکی کے کاموں کے جو خدا تعالیٰ کی رضا کا موجب ہیں اور کسی چیز کی عادت نہ پڑنے دو تاکہ تم کو کبھی غیر کے آگے جھکنے یا قومی خدمات میں سستی کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔حُنَفَآءَ کے معنے نیک میلانوں پر ثابت قدم رہنا حُنَفَآءَ۔مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کے جو معنے اوپر بیان کئے گئے ہیں اُن میں چونکہ حَنِیْف کے وہ معانی بھی آ جاتے ہیں جو حل لغات میں بیان کئے جا چکے ہیں اِس لئے میں اِس جگہ حَنِیْف کے صرف اتنے معنے لیتا ہوں کہ ’’نیک میلانوں پر ثابت قدم رہنا‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر کی تشریحات کے بعد صرف یہی ایک معنے باقی رہ جاتے ہیں جن کاالگ بیان کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہیں اوپر کا حکم اس مزید ہدایت کے ساتھ دیتے ہیں کہ تم اپنے آپ میں نیک باتوں پر استقلال پیدا کرو یعنی ہم چاہتے ہیں کہ ایک تو مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کے جو معنے ہیں وہ تمہارے اندر پیدا ہو جائیں اور دوسرے تم میں استقلال پیدا ہو جائے۔یہ نہ ہو کہ نیکیوں پر چند دن تو بڑے جوش و خروش سے عمل کرو اور پھر تھک کر بیٹھ جائو۔درحقیقت بڑی غلطی انسان کی یہ ہوتی ہے کہ وہ نیکیوں پر دوام اختیار نہیں کرتا صرف چند دن عمل کرتااور