تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 566

اپنے گرد وپیش کے لوگوں کے اثر سے تم نے وہ عادت اختیار کی ہو۔گویا اس میں یہ اشارہ کیا گیاہے کہ تمام لغو عادات سے مومن کو بچنا چاہیے۔یوں تو عادتیں انسان کو ضرور پڑ جاتی ہیں کوئی انسان دنیامیں ایسا نہیں ہوتاجسے کچھ نہ کچھ عادت نہ ہو۔مگر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گردو پیش کے لوگوں سے صرف اتنا اثرلیتے ہیں کہ اُنہیں اچھا کھانا کھاتے دیکھتے ہیں تو خود بھی اچھا کھانا کھانے لگ جاتے ہیں۔اُنہیں اچھا لباس پہنتے دیکھتے ہیںتو خود بھی اچھا لباس پہننے لگ جاتے ہیں۔اُنہیں آرام کی زندگی بسر کرتے دیکھتے ہیں تو خود بھی آرام کی زندگی بسر کرنے لگ جاتے ہیں لیکن ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو لوگوں سے صرف نیکی اور تقویٰ اور عبادت کا اثر قبول کرتا ہے۔اب جہاں تک دوسروں سے اثر قبول کرنے کا سوال ہے دونوں نے اثر قبول کیا ہے فرق صرف یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے نفس کے آرام کے لیے گرد و پیش کا اثر قبول کیا اور دوسرے نے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے صرف وہ اثر قبول کیا جس کا نیکی اور تقویٰ کے ساتھ تعلق تھا۔گو یا وہ شخص جس نے اچھا کھانے یا اچھا پینے یا اچھا پہننے کا اثر قبول کیا تھا اُس نے اپنے دل کے آئینے کو غیروں کے سامنے کیا اور وہ شخص جس نے اپنے اندر نماز اور روزہ اور صدقہ و خیرات کی عادتیں پیدا کیں اُس نے اپنا آئینہ خدا کے سامنے کر دیا۔پس فرماتا ہے تمہیں دنیا میں رہ کر عادتیں تو ضرور پڑنی ہیں مگر تم ایسی کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے اعمال کا تواتر ہو۔بنی نوع انسان کے اعمال کا تواتر نہ ہو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی نظریں نیچی رکھو اگر اتفاقیہ طور پر کسی غیر عورت پر تمہاری نگاہ پڑ جاتی ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔لیکن اگر تم دوسری نگاہ اس پر ڈالو گے تو گنہگار بن جائو گے۔اس ممانعت میں بھی یہی حکمت ہے کہ اگر انسان دوسری بار نگاہ ڈالے گا تو اُس کا یہ نگا ہ ڈالنا بالا ارادہ ہو گا اور جب وہ ایک کام بالارادہ کر ے گا تویہ لازمی بات ہے کہ وہ کام آہستہ آہستہ عادت میں داخل ہونا شروع ہو جائے گا پس مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ تو بُرے افعال کا تکرار نہ کر بلکہ اُن اعمال کا تکرار کر جو تجھے خدا تعالیٰ تک پہنچانے والے ہوں یعنی جن کاموں کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اُن کا تکرار کرو اور جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اُن کے گردو پیش کے اثرات کی وجہ سے عادت پیدا نہ کرو۔گویااس کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو گردو پیش کے برے اثرات سے بالکل آزاد کر لو حتی کہ تم کو دوسروں کے بداثرات سے کوئی عادت نہ پڑے بلکہ صرف نیک اثرات کو قبول کرو۔عادات بھی ایک بہت بڑی ظلمت ہوتی ہیں بعض دفعہ یہ انسان کو دوسرے کا خوشامدی بنا دیتی ہیں۔بعض دفعہ ڈرپوک بنا دیتی ہیں۔بعض دفعہ سُست بنا دیتی ہیں اور انسان بڑے بڑے کاموں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً حُقہ کی عادت ہے، افیون کی عادت ہے یا چائے یا نسوار کی عادت ہے ایسے لوگوں کو اگر جہاد کے لئے جانا