تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 565

کے تابع ہو جائیں۔بظاہر عادت کی عبادت بُری ہو تی ہے مثلاً اگر کوئی شخص صرف عادت کی نماز پڑھتا ہے یعنی اُسے ماں باپ نے نماز پر لگا دیا تھا جس کی وجہ سے اُسے نماز کی عادت ہو گئی یا اُس کے ماں باپ نے اُسے روزے رکھنے پر مجبور کیا تھا جس کی وجہ سے اُسے روزوں کی عادت ہو گئی یا کسی اور نیک کام پر اُس کے ماں باپ نے اُسے مجبور کیا اور رفتہ رفتہ اُس نیک کام کی اُسے عادت ہو گئی تو یہ عادت بُری سمجھی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ عادتیں دو قسم کی ہوتی ہیں وہ عادت کی عبادت بُری ہوتی ہے جس کی ابتدا بھی عادت سے ہو۔یعنی جب کسی نے کوئی کام بغیر سمجھے بوجھے کیا ہو اور فتہ رفتہ وہ کام اس کی طبیعت میں داخل ہو گیا ہو تو یہ عادت اچھی نہیں سمجھی جا سکتی۔مثلاً کسی شخص نے زید کو کوئی بات کہی اور اُس نے بغیر سوچے سمجھے اُس کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اُس بات کی اُسے عادت ہو گئی یا کسی اور کے کہنے کی بجائے اُس نے خود ہی کسی کام کی آہستہ آہستہ عادت اختیار کر لی تو یہ عادت قطعاً کوئی قیمت نہیں رکھتی۔لیکن ایک شخص ایسا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لیے اور اس کی محبت اور اُس کے عشق سے عبادات اور نیک اعمال میں حصہ لینا شروع کرتا ہے اور عمل کرتے کرتے وہ اُس کا جزوِ بدن ہو جاتے ہیں اور آپ ہی آپ بغیر کسی ارادہ کے وہ افعال اس سے ظاہر ہونے لگتے ہیں ایسے شخص کی عادت کی عبادت رسمی عبادت نہیں کہلا سکتی۔کیونکہ اُس نے خلوص کے ساتھ، محبت کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسا کیا اور متواتر کرتا چلا گیا یہاں تک کہ عبادت اُس کا جزوِ بدن بن گئی۔اب جو فعل اس عادت کے نتیجہ میں ظاہر ہو گا وہ یقیناً خوبی کہلائے گا کیونکہ اُس نے دیدہ و دانستہ اپنے نفس پر جبر کر کے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک فعل اتنی بار کیا کہ وہ اس کے رگ و ریشہ میں پیوست ہو گیا یہ جبری عادت نہیں ہوتی کہ اُسے بُرا قرار دیا جا سکے نہ بے دھیان کی عادت ہوتی ہے کہ اسے لغو کہا جا سکے۔یہ ایک نیک عادت ہوتی ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اختیار کی جاتی ہے اور چونکہ خدائی قانون یہ ہے کہ جب ایک شخص لذّت اور شوق سے متواتر کوئی فعل کرے تو وہ کام اُس سے آپ ہی آپ سرزد ہو تا جاتا ہے۔اِس لئے ایسے شخص کی عادت کی عبادت رسمی عبادت نہیں کہلاتی بلکہ وہ اطاعت کا منتہیٰ کہلاتی ہے۔(۲)دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ انسان کو کئی قسم کی عادات خاص خاندانوں یا قوموں میں رہنے کی وجہ سے پڑ جاتی ہیں۔مثلاً چائے نوشوں میں چائے کی عادت ہوتی ہے، اچھے خوش خور لوگوں میں اچھا کھانا کھانے کی عادت ہوتی ہے خوش لباسوں میں رہنے کی وجہ سے انسان کو خوش لباسی کی عادت ہو جاتی ہے۔اس لئے ایک معنے اِس آیت کے یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو اس طرح اللہ تعالیٰ کا بنائو کہ اگر تم کو کوئی عادت پڑے تو وہ اللہ کی ہو نہ کہ