تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 563
مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے چھٹے معنے (۶)چھٹے معنے اس کے عبادت کے ہیں۔یہ معنے بھی یہاں لگتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ شرک نہ کرو سب قسم کی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے کرو۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے ساتویں معنے (۷) ساتویں مناسب معنے اس کے وَرَع کے ہیں یعنی نیکی اور نیک اعمال اِن معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ ریاء اور سُـمْعَۃ کو باکل ترک کر دو اور سب زہد وتعبد صرف اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہو۔یہ نہ ہو کہ تمہارے جُبّے اور دستاریں اور کہانت اور پادری کاعہدہ لوگوں میں عزت حاصل کرنے اور اُن سے اطاعت کرانے کے لئے ہو بلکہ تمہارا زہد و تعبد محض خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ہو۔یہ بات ایسی ہے جس کی طرف غیر قومیں تو الگ رہیں خود مسلمانوں کو بھی بہت کم توجہ ہے اور وہ نمازیں پڑھنے اورروزے رکھنے اور زکوٰۃ دینے اور حج کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا مدّ نظر نہیں رکھتے بلکہ اُن کامقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ لوگوں میں ہماری عزت قائم ہو جائے اور وہ ہمیں بڑا نمازی یا بڑا عابد کہنے لگ جائیں۔اِسی طرح حج بھی زُہد کی علامت ہوتی ہے مگر ہمارے ملک میں عام طور پر حج کو بھی اپنی شہرت کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہر شخص جوحج کر آئے وہ اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔میں جب حج کے لئے گیا تو ایک اور مسلمان نوجوان بھی میرے ساتھ جہاز میں سوا ر تھا۔وہ اپنے آپ کو دین کے متعلق اس قدر غیرت مند سمجھتا تھا کہ جب اُسے معلوم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو وہ بار بار اپنا ہاتھ مار کر کہتاکہ وہ جہاز بھی نہیں ڈوبتا جس میں ایساشخص سفر کر رہا ہے۔حالانکہ اِسی جہاز میں وہ خود بھی سفر کر رہا تھا اور اگر جہاز ڈوبتا تو اس کا ڈوبنا بھی یقینی تھا۔بہرحال ایک طرف تودین کے متعلق وہ اس قدر غیرت کا اظہار کرتا تھا اور دوسری طرف اس کی حالت یہ تھی کہ میں نے اسے مکہ سے منیٰ جاتے ہوئے جو عین حج کا وقت ہوتا ہے اردو کے نہایت گندے عشقیہ اشعارپڑھتے سنا۔ایک دن باوجود اس کے بُغض اور کینہ کے میں اُس کے قریب چلا ہی گیا اور میں نے اُسے کہا کہ آپ کو دین کا بہت شوق معلوم ہوتا ہے مگر یہ کیا بات ہے کہ منیٰ میں مَیں نے آپ کو بہت گندے اشعار پڑھتے سنا ہے کہنے لگا بات اصل میں یہ ہے کہ ہم سورت کے تاجر ہیں اور ہمارے علاقہ میں حاجیوں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ہماری ہول سیل دوکان ہے اور ارد گرد کے علاقوں سے اکثر لوگ ہماری دوکان سے ہی مال خرید کر لے جاتے ہیں مگر گذشتہ سال ہمارے پاس کی دوکان والاحج کر آیا اور اس نے اپنے نام کے ساتھ حاجی کا ٹائٹل لگا کر دوکان پربورڈ آویزاں کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گاہک بھی اُدھر جانے شروع ہو گئے کیونکہ لوگوں نے خیال کیاکہ حاجی صاحب سے سودا خریدنا چاہیے اس میں ثواب بھی ہو گا یہ دیکھ کر میرے باپ نے مجھے کہا کہ کم بخت تو بھی حج کر آ ورنہ اگر یہی حالت رہی تو ہماری دوکان