تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 558

شغف رکھتا ہے کوئی سیاست کی طرف مائل ہوتاہے کوئی تجارت میں انہماک رکھتا ہے کوئی زراعت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان سب امور کا حصول کئی وجوہ سے ہوتا ہے بہر حال دنیا میں جو یہ نظارہ نظر آتا ہے۔کہ کوئی سائنس کی طرف توجہ کر رہا ہے، کوئی حساب کی طرف توجہ کر رہاہے، کوئی تجارت کی طرف مائل ہے کوئی زراعت سے دلچسپی رکھتا ہے، کوئی سیاسیات میںاپنی عمر بسر کر رہا ہے۔اس پر جب غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر لوگوں کی تدابیر یا اپنے نفس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں یا اپنی قوم کے غلبہ اور نفوذ کے لئے۔یعنی دنیا میں کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو محض اپے نفس کے فائدہ کےلئے ان امور کی طرف توجہ کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے سائنس میں ترقی کرلی تو کئی قسم کی ایجادیں کریں گے۔کارخانے جاری کریں گے اور مالی لحاظ سے بہت کچھ نفع اُٹھائیں گے۔یاحساب میں شغف رکھتے ہیں تو اس لئے کہ ترقی کر کے ہم انجینئر بن جائیںگے اور دنیا میں اعزاز حاصل کریں گے یا تجارت کرتے ہیں تو اس لئے کہ اپنے لئے اور اپنے خاندان کے افراد کے لئے ہمارے پاس بہت سا روپیہ اکٹھا ہو جائے گا۔یا زراعت کریں گے تو اس فن میں بھی اُن کے مدّ نظر محض اپنا فائدہ ہوگا۔اِسی طرح سیاسیات میں اُن کی دلچسپی کسی قومی مفاد کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ذاتی اعزاز کا حصول اس تمام جدوجہد کا بنیادی نقطہ ہوتا ہے۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ذاتیات سے بہت بالا ہوتے ہیں ان کے مدّ نظر اپنے ذاتی مفاد اس قدر نہیں ہوتے جس قدر قومی مفاد ان کے مدّنظر ہوتے ہیں۔ان میں سے اگر ایک سائنس دان سائنس میں شغف رکھتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میری قوم کو اس ذریعہ سے طاقت حاصل ہو جائے اگر کوئی حساب کی طرف توجہ کرتا ہے تو اس کی غرض بھی اس علم سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔اگر کوئی تجارت کرتا ہے تب بھی اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تجارت سے میری قوم مضبوط ہوجائے غرض یہ لوگ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کرنے والے ہوتے ہیں ان میں سے کچھ لوگ اگر زراعت کی طرف توجہ کرتے ہیں تو اُن کے مدّنظر محض یہ غرض نہیں ہوتی کہ ہم ہل چلائیں گے کھیتی باڑی کریں گے اور نفع کمائیں گے بلکہ وہ فنِ زراعت اس لئے سیکھتے ہیں تا کہ اُن کی قوم ترقی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکل جائے۔اسی طرح جب اُن میں سے بعض لوگ سیاسیاست میں حصہ لیتے ہیں تو اِس لئے نہیں کہ اُن کو ذاتی طور پر غلبہ اور نفوذ حاصل ہو جائے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ سیاسیات میں حصہ لینے کے نتیجہ میں اُن کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔غرض دنیا میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جن کی تمام جدّوجہد کا مرکزی نقطہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کو ذاتی طور پرکوئی فائدہ حاصل ہو جائے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض قومی مفاد کے لئے ہر قسم کی جدوجہد کرتے ہیں اُن کا علوم کی طرف توجہ کرنا مختلف فنون میں مہارت حاصل کرنا اور مختلف قسم کے شعبوں میں کام کرنا اس لئے