تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 557

میں انسانی دست اندازی کے سلسلہ کو بند کیا جائے۔وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ اور خدا تعالیٰ کے کلام میں دخل اندازی نہ کی جائے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان بھی بعد کے زمانہ میں بگڑے اور بہت بگڑے مگر انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی مدد اور اُس کے منشاء کے ماتحت آج بھی محفوظ ہے۔بے شک فقہ میں مسلمانوں نے بھی خوب کتر بیونت کی مگر خدا کا کلام چونکہ محفوظ ہے اِس لئے اس کتر بیونت سے مستقل نقصان اسلام کو نہ پہنچا ہے اور نہ پہنچ سکتا ہے۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے چوتھے معنے (۴) چوتھے معنے دین کے جویہاں لگ سکتے ہیں سیرت کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اُنہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریںاپنی سیرت کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے یعنی اپنی سیرت کے بنانے میں کسی اورکو شریک نہ کرو بلکہ اپنے اخلاق کلی طور پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مطابق بنائو۔گویا وہ حدیث جو رواۃ کے لحاظ سے ایسی مضبوط نہیں سمجھی جاتی جیسی دوسری حدیثیں ہیں یعنی تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہ (التعریفات لعلی بن مـحمد الـجرجانی باب الفاء صفحہ ۱۱۳) کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو، اِس آیت کے رو سے بالکل درست ثابت ہوتی ہے اور مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے معنے یہ بنتے ہیں کہ مُـخْلِصِیْنَ لَہُ السِّیْـرَۃَ۔اپنی سیرت خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کر دو یعنی جب تک الٰہی صفات کے مطابق دنیا اپنے اخلاق کو نہ بنائے امن قائم نہیں ہو سکتا۔فرماتا ہے اپنی سیرت کو ایسا بناؤ کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی صفات کے اور کسی کا عکس اُس پر نہ پڑے جس طرح خدا تعالیٰ رب ہے تم بھی رب بنو جس طرح وہ رحمان ہے تم بھی رحمان بنو۔جس طرح وہ رحیم ہے تم بھی رحیم بنو جس طرح وہ مالک یوم الدّین ہے تم بھی اندھے قاضی نہ بنو۔بلکہ مالک یوم الدّین بنو۔اصلاح اور درستی اصل غرض تمہارے سامنے رہے۔خدا تعالیٰ کی طرح رازق بنو، غفار بنو، ستار بنو، نیک باتوں اور قوموں اور مُردوں کے لئے مُحی بنو اور بری باتوں اور برے افراد کے لیے ممیت بنو۔اسی طرح حفیظ بنو۔باسط بنو۔قیوم بنو وغیرہ وغیرہ۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے پانچویں معنے (۵)پانچویں معنے دِیْن کے جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں تدبیر کے ہیں۔ہر فرد دنیا میں کچھ نہ کچھ جدوجہد کرتا ہے اور ہر فرد سے میری مراد ہر معقول فرد ہے۔ورنہ دنیا میںایسے احمق بھی ہوتے ہیںجو سونے اور کھانے پینے میں ہی اپنی عمریں گذار دیتے ہیں وہ درحقیقت انسان نہیں حیوان ہیں۔ان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہ وہ درحقیقت انسانیت کے دائرہ میں ہی شمار نہیں کئے جا سکتے۔ہر شریف انسان کچھ جدوجہد کرتا ہے۔اور ہر زندہ دل انسان کسی نہ کسی فن کی رغبت رکھتا ہے کسی کو سائنس سے دلچسپی ہوتی ہے کوئی حساب میں