تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 556

ہے جو قوموں کو دوام بخشتی ہے اگر مسلمان اس تعلیم پر عمل کرتے تو کبھی زوال کا منہ نہ دیکھتے۔مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے تیسرے معنے (۳) تیسرے معنے دِیْن کے جو یہاں لگتے ہیں ملک و حکم کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ ہم نے یہی حکم دیا تھا کہ حکم اللہ تعالیٰ کے لئے رہے۔جو وہ کہتا ہے اُسے جاری کیا جائے جس سے وہ روکتا ہے اُس سے رُکا جائے اپنی نفسانی خواہشات اور ارادوں کو شریعت میں دخل انداز نہ ہونے دیا جائے۔اسلام جس وقت نازل ہواہے۔اس موٹی صداقت کا بُری طرح سے انکار کیاجا رہا تھا۔ہر شخص جو اس بات کو مانتا ہے کہ خد اتعالیٰ کی طرف سے کوئی کلام اُس کی اور اس کی قوم کی ہدایت کے لئے آیا ہے اُسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ایسے کلام کو کلی طور پر انسانی دستبرد سے محفوظ رکھنا چاہیے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام جس وقت نازل ہوا ہے ہر قوم نے اپنی شریعت کی چادر کو پارہ پارہ کر دیا تھا اور خدا تعالیٰ کے دین کا ایک تولہ اُن کے خیالات کے منوں میں باقی رہ گیا تھا اب تک جو برا حال ان شریعتوں کا ہو رہا ہے وہ عبرت کے لئے کافی ہے مسیحؑ جن کی ساری عمر کی کمائی صرف اتنا فقرہ ہے کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے (متی باب۵ آیت ۳۹) اس تعلیم کی مسیحیوں نے کتنی مٹی پلید کی ہے۔اگر مسیحی حکومتوں کے دشمنوں نے ڈائنامیٹ کے بمب اُن کے علاقوں پر پھینکے ہیں تو انہوں نے صبر نہیں کیا جب تک اٹومک بمب ایجاد نہیں کر لیا۔پھر یہ سب امور شریعت کے مطابق بتائے جاتے ہیں۔حال ہی میں انگلستان کے گرجوں کے سب سے بڑے پادری نے اپنے ایک ماتحت پادری کے منہ پر یہ کہہ کر تھپڑ مارا ہے کہ اٹومک بمب بھی خدائی نشانوں میں سے ایک نشان ہے کیونکہ ایک ماتحت پادری نے یہ کہا تھا کہ میری فطرت اس بمب کے استعمال سے حاصل کی ہوئی فتح پر گرجے میں خوشی منانے پر تیار نہیں۔مسیحؑ نے کہا تھا میں موسٰی کی شریعت کو پورا کرنے آیا ہوں مگر مسیحیت نے موسوی شریعت کو سرتاپا لعنت بنا کر چھوڑا۔یہی حال دوسری کتابوں کا ہے کہ اُن کے اندر بھی اس قدرتحریف اور تبدیلی کر دی گئی ہے اور اس قدر انسانی خیالات اُن میںملادیئے گئے ہیں کہ اُن کی شکل مسخ ہو گئی ہے۔آج ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر موسٰی عیسٰیؑ۔کرشن ؑ اور زرتشتؑ دنیا میں آئیںتو وہ قرآن کریم کی طرف دوڑیں گے کہ یہ ہماری ہی تعلیم ہے جسے زیادہ جلا دے دیا گیا ہے اور جو تعلیمات اُن کی طرف منسوب کی جاتی ہیں وہ اُن کے پاس سے منہ موڑ کر گذر جائیں گے کہ یہ گندی تعلیمیں معلوم نہیں کس نے دنیا میں پھیلا دیں۔اسلام زیر تفسیر آیت کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کے سامنے پُر زور احتجاج کرتا ہے کہ شریعتوں کے بارہ