تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 555

کے حقوق بھی خوب ادا کئے ایسے کہ اس کی مثال دنیا میںنہیں ملتی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ وہ بادشاہ نہ تھے پریذیڈنٹ تھے مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ اُنہیں پریذیڈنٹ بننے پر مجبور کس نے کیا؟ آخر یہ عہدہ اُن کو اسلام نے ہی دیا اور اس عہدہ کی حیثیت کو انہوں نے اسلامی احکام کے ماتحت ہی قائم رکھا مگر یہ بات بھی تو نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ خواہ اُنہیں پریذیڈنٹ ہی قرار دیا جائے مگر اُن کا انتخاب ساری عمر کے لئے ہوتا تھا نہ کہ تین یا چار سال کے لئے۔جیسا کہ ڈیما کریسی کے پریذیڈنٹوں کا آج کل انتخاب ہوتا ہے یقیناً اگر ان کو صرف صدر جمہوریت کا ہی عہدہ دیا جائے تو بھی یہ بات علم النفس کے ماتحت اور سیاسی اصول کے ماتحت ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تین چار سال کے لئے چنے جانے والے صدر اور ساری عمر کے لیے چُنے جانے والے صدر میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔تین چار سال کے لئے چنے جانے والے صدر کے سامنے وہ دن ہوتے ہیں جب وہ اس عہدہ سے الگ کر دیا جائے گا اور پھر ایک معمولی حیثیت کا انسان بن جائے گا لیکن ساری عمر کے لئے چُناجانے والا صدر جانتا ہے کہ اب اس مقام سے اُترنے کا کوئی امکان نہیں اور اُس کے اہل ملک بھی جانتے ہیں کہ اس حیثیت کے سوا اور کسی حیثیت میں اب وہ اُن کے سامنے نہیں آئے گا۔پس جس شان و شوکت کا وہ مستحق سمجھا جاتا ہے اس شان و شوکت کا مستحق تین سالہ یا چار سالہ صدر نہیں سمجھا جا سکتا۔مگر اس ڈیماکریسی اور جمہوریت کے زمانہ میں سہ سالہ اور چار سالہ میعاد کے لئے چُنے جانے والے صدروں کی زندگیوں کو دیکھ لو ملک کا کتنا روپیہ اُن پر صرف ہوتا ہے۔صدر جمہوریت امریکہ پر ہر سال جو روپیہ خرچ ہوتا ہے انگلستان کے بادشاہ پر بھی اتنا خرچ نہیں ہوتا۔مگر اس کے مقابل میں خلفاء اربعہ کس طرح پبلک کے روپیہ کی حفاظت کرتے تھے وہ ایک ایسا تاریخی امر ہے کہ اپنے اور بیگانے اُس سے واقف ہیں صرف نہایت ہی قلیل رقوم اُنہیں گذارے کے لئے ملتی تھیں اور خود اپنی جائیدادوں کو بھی وہ بنی نوع انسان کے لئے خرچ کرتے رہتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُن خلفاء میں سے ہیں جن پر اپنوں اور بیگانوں نے بہت سے اعتراضات کئے ہیں جب اُن کی عمر کے آخری حصہ میں کچھ لوگوں نے بغاوت کی اور اُن کے خلاف کئی قسم کے اعتراضات کئے تو اُن میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ انہوں نے بہت سے روپے فلاں فلاں اشخاص کو دیئے ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اسلام کے خزانہ پر سب ہی مسلمانوں کا حق ہے اگر میں قومی خزانہ سے ان لوگوں کو دیتا تو بھی کوئی اعتراض کی بات نہ تھی مگر تم قومی رجسٹروں کو دیکھ لو میں نے اُن کو قومی خزانہ سے روپیہ نہیں دیا بلکہ اپنی ذاتی جائیداد میں سے دیا ہے گویا اُن کی ذاتی جائیداد قومی خزانہ کے لئے ایک منبعِ آمد تھی۔پس ان لوگوں نے اپنے غلبہ اور استعلاء کو محض خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کیا نہ کہ اپنی شان بڑھانے کے لئے اور یہی وہ چیز