تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 546

مفردات والے لکھتے ہیں اَلْـخَالِصُ کَالصَّافِیْ۔خالص کے معنے بھی وہی ہوتے ہیں جو صافی کے ہوتے ہیں اِلَّا اَنَّ الْـخَالِصَ ھُوَ مَا زَالَ عَنْہُ شَوْبُہٗ بَعْدَ اَنْ کَانَ فِیْہِ ہاں خالص اور صافی میں یہ فرق ہے کہ خالص اُس کو کہتے ہیں جس میں سے ملاوٹ کو الگ کر لیا گیا ہو بَعْدَ اَنْ کَانَ فِیْہِ ایسی حالت میں جب کہ اُس کے اندر پہلے ملاوٹ موجود ہو۔وَالصَّافِیْ قَدْ یُقَالُ لِمَا لَا شَوْبَ فِیْہِ اور صافی دونوں کے لئے بولا جاتا ہے اُس کے لئے بھی جس میں پہلے ملاوٹ تھی اور پھر اسے نکال دیا گیا اور اس کے لئے بھی جس میں ملاوٹ کبھی ہوئی ہی نہیں پھر لکھتے ہیں کہ یہ جو قرآن مجید میں آتا ہے۔وَنَـحْنُ لَہٗ مُخلِصُوْنَ اس کا مطلب ہے اِخْلَاصُ الْمُسْلِمِیْنَ اَنَّـھُمْ قَدْ تَبَـرَّءُوْا مِـمَّا یَدَّعِیْہِ الْیَـھُوْدُ مِنَ التَّشْبِیْہِ وَ النَّصَارٰی مِنَ التَّثْلِیْثِ۔ہم ہر شرک اور تشبیہ سے بچے ہوئے ہیں نہ شرک جلی کرتے ہیں اور نہ شرکِ خفی اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اس کے معنے بھی یہی ہیں جو نَـحْنُ لَہٗ مُـخْلِصُوْنَ کے ہیں اور آیت اِنَّہٗ کَانَ مُـخْلِصًا الـخ میں اِخْلَاص کا مطلب ہے اَلتَّبَرِّیْ عَنْ کُلِّ مَا دُوْنَ ﷲِ تَعْالٰی یعنی کامل توحید کے سوا ہر چیز سے جب انسان تبرّی کر لے اور کہے کہ میں اُس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تو وہ مخلص کہلاتا ہے۔(مفردات) اَلدِّیْنُ اَلدِّیْنُ : دَانَ کا مصدر ہے اور دَانَ (یَدِیْنُ دِیْناً وَ دَ یَانَۃً ) الرَّجُلُ کے معنے ہیں عَــزَّ۔وہ عزت پا گیا اور دَانَ الرَّجُلُ کے یہ بھی معنے ہیں کہ ذَلَّ وہ ذلیل ہو گیا یا ماتحت ہو گیا اور دَانَ کے معنے اَطَاعَ کے بھی ہیں اور عَصٰی کے بھی ہیں گویا یہ حروفِ اضداد میں سے ہے یعنی اُلٹ معنے بھی اس میں پائے جاتے ہیں اس کے معنے اطاعت کے بھی ہیں اور اس کے معنے نا فرمانی کے بھی ہیں۔جس طرح اس کے معنے عزت کے بھی ہیں اور ذلت کے بھی یا بڑے کے بھی ہیں اور چھوٹے کے بھی۔اسی طرح اس کے ایک معنے اطاعت کے بھی ہیں اور نا فرمانی کے بھی اور دَانَ کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ اِعْتَادَ وہ عادی ہو گیا۔یہاں بھی اس کے معنے اپنے اندر اضداد کا رنگ رکھتے ہیں یعنی اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ اِعْتَادَ خَیْرًا وہ خیر کا عادی ہو گیا اور اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ اِعْتَادَ شَـرًّا وہ شر کا عادی ہو گا۔اور دَانَ کے معنے بیمار ہوجانے کے بھی ہیں چنانچہ لُغت میں اس کے ایک معنے یہ لکھے ہیں کہ اَصَا بَہُ الدَّاءُ اُسے بیماری لگ گئی اور دَانَ فُلاَنٌ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں خَدَمَہٗ اُس کی خدمت کی یعنی دوسرے کا خادم بن گیا اور دَانَ فُلانٌ کے معنے اَحْسَنَ اِلَیْہِ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس پر احسان کیا اور دَانَ فُلَانٌ کے معنے مَلِکَہٗ کے بھی ہیں یعنی اُس کا مالک ہو گیا اور دَانَ کے معنے حَـمَلَہٗ عَلٰی مَا یَکْرَہُ کے بھی ہوتے ہیں یعنی جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتا اُس پر اسے مجبور کیا اور دَانَ فُلانٌ کے معنے اِسْتَعْبَدَہٗ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس کو غلام بنا لیا اور یہ بھی