تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 51
کاکام قرار دیتی ہے۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ جو کام تم خود کرتے ہو اسی کام کی وجہ سے تمہیں سُنار پر غصہ آجائے اس پر وہ شرمندہ ہو گیا تو فطرت جو مسخ ہو چکی ہو وہ بعض دفعہ ابھر بھی آتی ہے مگر اس طرح فطرت کو ابھارنا ہر شخص کا کام نہیں ہوتا یہ ماہر فن ہی کام کر سکتا ہے اور پھر بعض جگہ باوجود کوشش کے بھی مسخ شدہ فطرت نہیںابھرتی جیسے وہ لوگ جو گوشت کھانے کے مخالف ہیں اور وہ اسے ’’جیو ہتیا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ان سے جب گفتگو ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارے زخموں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں تو تم دوائوں سے ان کیڑوں کومارتے ہو یا نہیں؟ اگر تم مارتے ہو اور تمہارے دماغ میں اس وقت جیو ہتیا کا خیال نہیں آتا بلکہ تم سمجھتے ہو کہ ادنیٰ چیز کو اعلیٰ کے لئے قربان ہی ہونا چاہیے تو تمہیں گوشت خوری پر کیا اعتراض پیدا ہوتاہے۔اس رنگ میںجب ان کو سمجھایا جائے تو بعض دفعہ تو وہ سمجھ جاتے ہیں مگر بعض دفعہ نہیں بھی سمجھتے۔بہر حال اصل دلیل جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بار بار استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسانی کانشنس میں نیکی اور بدی کا احساس پایا جاتا ہے یعنی ہر شخص میں خواہ وہ کسی مذہب و ملت کا پیرو ہو یہ احساس پایا جاتا ہے کہ کچھ چیزیں اچھی ہیں اور کچھ چیزیںبُری ہیں۔یہ نہیں کہ فلاںچیز اچھی ہے اور فلاں چیز بُری۔یہ علم الاخلاق ہے۔کانشنس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ ہر انسان میں ایک مادہ پایا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ کوئی چیز اچھی ہے اور کوئی چیز بُری ہے۔تم ساری دنیا میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیںدکھا سکتے جو یہ کہتا ہو کہ ہر چیز اچھی ہے یا ہر چیز بُری ہے۔وہ کسی کو اچھا سمجھتا ہوگا اور کسی کو بُرا سمجھتا ہوگا۔مثلاً چور چوری کو اچھا سمجھے گا مگر قتل کو بُرا سمجھے گا۔یا قاتل قتل کو اچھا سمجھے گا مگر وعدہ کی خلاف ورزی کر بُرا سمجھے گا۔یا ظالم ظلم کو اچھا سمجھے گا مگر جھوٹ پر اُسے غصہ آجائے گا۔یا جھوٹا جھوٹ کو اچھا سمجھے گا مگر قتل پر اُسے غصہ آجائے گا۔غرض اخلاق اور مذہب سے تعلق رکھنے والے جس قدر افراد دنیا میںپائے جاتے ہیں ہندو کیا اور عیسائی کیااور مسلمان کیا اور سکھ اور یہودی کیا اور چوڑھے کیا اور عالم کیا اور جاہل کیا ہر انسان میںیہ مادہ پایا جاتا ہے کہ کچھ کام مجھے کرنے چاہئیںاور کچھ کام نہیں کرنے چاہئیں۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا میں فجور کے بطور مصدر استعمال کرنے کی وجہ اللہ تعالیٰ اسی مادہ کے لحاظ سے جو ہر انسان میںپایا جاتا ہے۔فرماتا ہے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔ہم نے اس کو الہام کیا ہے اس کے فجور اوراس کے تقویٰ کے متعلق۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں مصدر استعمال کیا ہے یہ نہیں کہا کہ ہم نے اسے فجو ر والی باتوںکا الہام کیا ہے یا تقویٰ اور پاکیزگی کی تفصیلات اس پر الہام کے ذریعہ روشن کی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ ہم نے اسے فجور اور تقویٰ کا الہام کیاہے یعنی ہر انسان میںفجور اور تقویٰ کی حس پائی جاتی ہے اور ہر انسان میں