تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 539
مثلاً وہ شخص جس کی طبیعت میں غصے کا مادہ زیادہ ہے جب وُہ انجیل میں پڑھتا ہے کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے تو وہ ناک بھوں چڑھا کر کہتا ہے یہ بھی کوئی کتاب ہے یہ تو زنخوں کی کتاب ہے اِس پر کون عمل کر سکتا ہے۔اس کے مقابل میں جب ایک رحم دل انسان بائیبل کی یہ تعلیم پڑھتا ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان تو وہ گھبرا کر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ خدا کی کتاب نہیں ہو سکتی جس میں اس قدر سخت دلی کی تعلیم دی گئی ہے۔مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے جس میں ہر فطرت کے تقاضا کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔سخاوت کا مضمون آتا ہے تو ایک سخی کا دل اُس سے تسلی پا کر اٹھتا ہے۔اگر اقتصادیات سے دلچسپی رکھنے والا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اپنے مال کو اس طرح نہیں لٹانا چاہیے کہ قوم کمزور ہو جائے تو وہ جب قرآن کریم میں پڑھتا ہے کہ مال بھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے تو اقتصادی آدمی بھی تسلی پا کر اٹھتا ہے اور وہ کہتا ہے ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ کتابِ مکنون میں ہے یعنی گو اس کی ایک کاپی ظاہری کاغذوں پر لکھی جاتی ہے لیکن اس کی ایک نقل آسمانی کاتبوں نے انسانی دماغوں پر بھی لکھ دی ہے۔فطرت انسانی جن چیزوں کا تقاضا کرتی ہے وہ سب قرآن میں ہیں اور قرآن جن چیزوں کا حکم دیتا ہے وہ سب انسانی فطرت میں موجود ہیں گویا اِس کی ایک کاپی انسانی دماغ پر لکھی ہوئی ہے اور ایک کاپی قرآن کریم کے اوراق پر لکھی ہوئی ہے۔اِسی لئے جب کوئی شخص سمجھ کر اور عقل سے کام لے کر قرآن کریم پڑھتا ہے تو اُسے یوںمعلوم ہوتا ہے کہ کہیں باہر سے حکم نہیں مل رہے بلکہ اُس کے دل کی آواز کو خوبصورت لفظوں میں پیش کیا جا رہا ہے گویا قرآن کریم کوئی نئی شریعت بیان نہیں کرتا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گرامو فون کی سوئی انسان کے دماغ پر رکھ دی گئی ہے اور وہ انسانی فطرت کی تحریروں کو لفظوں کی زبان میں بدل کر رکھتی جاتی ہے۔کوئی حکم گراں نہیں گذرتا، کوئی تعلیم نامناسب معلوم نہیں ہوتی۔کوئی لفظ طبیعت میں خلجان پیدا نہیں کرتا بلکہ ہرلفظ اور ہرحرف ایک حکیم ہستی کی طرف سے نازل شدہ معلوم ہوتا ہے۔پھر مُطَھَّرَۃً کے دونوں معنوں کے لحاظ سے یعنی صفائی کے لحاظ سے اورشرک سے پاک ہونے کے لحاظ سے ایک اور بھی لطیف مناسبت اِس آیت میں پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس سورۃ میں دو قوموں کا ذکر ہے۔ایک اہل کتاب کا اور دوسرے مشرکین کا۔اہل کتاب کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں اہل کتاب کی کتابوں کے نقائص دُور کئے گئے ہیں اور مشرکوں کے لحاظ سے اِس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کتاب میں شرک کی بیخ کنی کر دی گئی ہے گویا ظاہری صفائی کے معنے اہل کتاب کے لحاظ سے ہیں اور باطنی صفائی