تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 538
الفاظ پڑھتے ہوں گے اُن کے دل دُکھتے ہوں گے کہ یہ سخت الفاط ہمارے آباء کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں لیکن قرآن کریم نے جہاں مجبوراً بعض سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔وہاں کسی کا نام نہیں لیا بلکہ اشارۃً ذکر کر دیا ہے کہ بعض لوگوں میں یا بعض قوموں میں یہ یہ نقائص پائے جاتے ہیں یا فلاں فلاں اخلاقی خرابیاں اُن میں موجود ہیں۔دشمن اِن الفاظ کو پڑھتا ہے تو اُس کے دل پر چوٹ نہیں لگتی وہ فوراً کہہ دیتا ہے کہ میں تو ایسا نہیں یہ اور لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے پس قرآن کریم کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ اُس میں دل آزاری کی کوئی بات نہیں۔مُطَھَّرَۃً کے لفظ سے باطنی خوبی کی طرف بھی اشارہ ہے ایک کتاب کی بڑی باطنی خوبی یہی ہو سکتی ہے کہ جن مطالب کا بیان کرنا ضروری ہو اُس میں اُن کو پوری طرح بیان کر دیا جائے کسی قسم کا نقص اُن کے بیان کرنے میں نہ رہ جائے۔یہ خوبی بھی قرآن کریم میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔اُس نے جس مضمون کو بھی لیا ہے ایسی عمدگی سے ادا کیا ہے کہ اُس میں کسی قسم کا نقص ثابت نہیں کیا جا سکتا۔غرض قرآن کریم مطالب مقصودہ کے بیان کرنے سے قاصر نہیں۔جو مطلب اُس نے لیا ہے اُس پر سیر کن بحث ایسی زبان میں کر دی ہے کہ ہر پڑھنے والا اسے سمجھتا ہے اور ہر مضمون کو ایسا کھول دیا ہے کہ حد ہی کر دی ہے۔یہ خوبیاں بظاہر معمولی ہیں لیکن قوموں کی اصلاح اور اُن کی بیداری کے لئے اتنی اہم ہیں کہ ان کے بغیر مقصد میں کامیابی ہو ہی نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سب سے زیادہ دنیا کی اصلاح کی ہے۔باطنی گند سے پاکیزگی کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اُس کی تعلیم پاک ہو۔کوئی خلافِ فطرت بات اس میں شامل نہ ہو۔یہ امر بھی قرآن کریم میں انتہاء درجہ تک پایا جاتا ہے اور ہر شخص جو قرآنی تعلیم پر ادنیٰ سا بھی تد بّر کرے اُسے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کتاب میں کوئی بات ایسی نہیں جو خلافِ فطرت ہو۔دوسری کتابوں کو پڑھو تو اُن میں کئی ایسی باتیں آ جاتی ہیں جو خلافِ فطرت ہوتی ہیں۔پھر قرآن کریم کی ایک یہ بھی خوبی ہے کہ اُس میں ہر فطرت کے مطابق تعلیم پائی جاتی ہے۔کسی قسم کا انسان ہو جب بھی قرآنی تعلیم اُس کے سامنے پیش کی جائے وہ اُس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کے مادے رکھے ہیں کہیں غصے کا مادہ اُس میں پایا جاتا ہے، کہیں رحم کا مادہ اُس میں پایا جاتا ہے، اور یہ دونوں مادے اپنی اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری ہیں پس کامل کتاب وہی ہو سکتی ہے جو ہر قسم کی فطرت کو ملحوظ رکھ کر تعلیم دے۔اگر وہ ہر فطرت کو ملحوظ نہیں رکھتی تو یہ لازمی بات ہے کہ سب انسانوں کی پیاس اُس کتاب سے نہیں بجھے گی اور جس فطرت کے خلاف اُس کتاب میں کوئی تعلیم پائی جائے گی وہ فطرت اُس سے بغاوت کرے گی۔