تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 537
وہ کہتا ہے قرآن کریم کا ترجمہ سمجھ میں آ کس طرح سکتا ہے اُس کا سٹائل ایسا ہے کہ نہ اُسے نثر کہا جا سکتا ہے نہ نظم۔جب تک اس کے سٹائل کو مدِّ نظر نہ رکھا جائے اُس وقت تک اُس کے معنے کو پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔(New Age Encyclopedia by Belinda Whitworth:Under word Koran) پھر ایک ظاہری نقص فحش کلامی کا ہوتا ہے مگر قرآن کریم اِس نقص سے بھی کلیۃً پاک ہے۔اُسے مضامین وہ ادا کرنے پڑتے ہیں کہ بعض دفعہ بغیر الفاظ کے ننگا ہونے کے اُن کو ادا نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن کریم ان تمام مقامات پر سے ایسی عمدگی سے گذر جاتا ہے کہ مطلب بھی ادا ہو جاتا ہے اور طبعِ نازک پر گراں بھی نہیں گذرتا۔اس کے مقابلہ میں ویدوں اور بائیبل وغیرہ میں بعض دفعہ ایسی باتیں آ جاتی ہیں کہ اُن کا پڑھنا بالکل نا ممکن ہو جاتا ہے ویدوں میں ایک منتر آتا ہے کہ فلاں بزرگ پیدا ہونے لگا تو چونکہ گندی جگہ سے گزرنے سے اُس نے انکار کر دیا پیٹ پھاڑ کر اُسے نکالا گیا۔اِس قسم کے الفاظ انسان کی طبیعت پر سخت گراں گذرتے ہیں مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ویدوں میں ایسے منتر موجود ہیں جن میں فحش کلامی پائی جاتی ہے۔اِسی طرح بائبل کے متعلق خود عیسائیوں نے اعتراف کیا ہے کہ اُس کے بعض حصے ایسے گندے ہیں کہ اُن کا پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو تو وہ حصے پڑھا ہی نہیں سکتے مگر قرآن کریم میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے حسِ لطیف کو کوئی صدمہ پہنچتا ہو۔پھر ایک ظاہر ی نقص کلام میں دل آزاری کا پایا جانا ہوتا ہے۔پڑھنے والا جب کسی ایسی کتاب کو پڑھتا ہے جس میں دوسروں کی دل آزاری سے کام لیا گیا ہو تو وہ بُرا مناتا اور اُس کا قلب سخت اذیت محسوس کرتا ہے مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے جس میں کسی قوم کی دل آزاری نہیں کی گئی اور اگر کسی جگہ مجبوراً قرآن کریم کوبعض سخت الفاظ استعمال بھی کرنے پڑے ہیں تو وہاں اُس نے کسی کا نام نہیں لیا صرف اصولاً ذکر کر دیا ہے کہ بعض انسان ایسے ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہا کہ مکہ والے ایسے ہیں یا یہودی ایسے ہیں یا عیسائی ایسے ہیں۔اس کے مقابل پر جب دوسری الہامی کتب کو دیکھا جاتا ہے تو اُن میں یہ نقص نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ہی انجیل میں آتا ہے کہ اُنہوں نے فریسیوں اور فقیہیوں سے جب انہوں نے نشان کا مطالبہ کیا تو کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یونس نبی کے نشان کے سوا اَور کوئی نشان نہیں دکھایا جائے گا(متی باب ۱۲ آیت ۳۹) اِن الفاظ کو آج بھی یہودی پڑھتے ہوں گے تو سمجھتے ہوں گے کہ بد کار اور حرام کار وغیرہ الفاظ ہمارے باپ دادوں کے متعلق ہی استعمال کئے گئے ہیں یا مثلاًحضرت مسیحؑ نے اپنے دشمنوں کو سانپ اور سانپوں کے بچے قرار دیا ہے(متی باب ۱۲ آیت ۳۴) اور انجیل میں یہ الفاظ آج تک موجود ہیں۔یہودی جب بھی یہ