تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 536
لینا تمہارے لیے جائز نہیں غرض یہودی تعلیم میں یہ زور کہ ضرور دانت کے بدلہ میں دانت توڑو۔آنکھ کے بدلہ میںآنکھ پھوڑواور کان کے بدلہ میں کان کاٹو(احبار باب ۲۴آیت ۱۹،۲۰) فقہ کا ہی نتیجہ تھا ورنہ موسٰی کی تعلیم میں یہ بات نہ تھی اسی طرح عیسائیت کی تعلیم میں یہ بات کہ تم ضرور معاف کرو اور اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو (متی باب ۵ آیت ۳۹) فقہ کی وجہ سے ہی تھی۔ورنہ حضرت مسیحؑ تو صاف کہتے ہیں کہ میں تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آیا۔جب وہ تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آئے تو اُس کے قانون سزا کو وہ کلیتہً کس طرح مٹا سکتے تھے۔غرض وہ فقہی پیچیدگیاں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے پیدا کر دی تھیں اور غلط فقہ کی وجہ سے جو نقائص رونما ہوگئے تھے قرآن کریم نے ان سب کو دُور کر دیا ہے اور یہی قرآن کریم کا مطہرّ یعنی دُھلا دُھلایا ہونا ہے۔کہ اس نے ایسی تعلیم دی جو ہر قسم کی پیچیدگیوں سے پاک ہے۔چوتھے معنے مُطَھَّرَۃً کے ہیں ظاہری نقصوں سے پاک۔ظاہری نقائص میں سے سب سے بڑا نقص زبان کا ہوتا ہے کیونکہ کتاب کا ظاہر اُس کی زبان ہی ہوتی ہے اس لحاظ سے مُطَھَّرَۃً کے معنے یہ بنیں گے کہ قرآن کریم زبان کے نقصوں سے پاک ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار دشمنانِ اسلام نے بھی نہیں کیا شاذو نادر کے طور پر کوئی غبی دشمن یا ایسا دشمن جو انصاف کوبالکل نظر انداز کر چکا ہو قرآن کریم کی زبان پر اعتراض کر دے تو اور بات ہے ورنہ بالعموم اُن عیسائیوں اور یہودیوں نے بھی جو عرب کے رہنے والے تھے قرآن کریم کی زبان کی تعریف کی ہے اور یوروپین مصنف جو غیر متعصّب ہیں انہوں نے بھی اس کی زبان کی داد دینے سے گریز نہیں کیا پس مُطَھَّرَۃً میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم زبان کے نقصوں سے پاک ہے نہایت لطیف اور فصیح زبان میں نازل ہوا ہے اور پڑھنے والے کو حسنِ کلام سے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ظاہری نقصوں سے پاک کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ زبان میٹھی اور دلکش ہو یعنی ظاہری نقص سے پاک ہونا ایک تو یہ ہے کہ زبان میں کوئی نقص نہ ہو ثقیل الفاظ نہ ہوں۔غیر طبعی محاورات نہ ہوں۔دوسرے یہ بھی ظاہری نقص سے پاک ہونے کی علامت ہے کہ زبان شیریں اور دلکش ہو۔یہ خوبی بھی قرآن کریم میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اُس کی عبارت ایسی لطیف ہے کہ پڑھنے والا یہ نہیں سمجھتا کہ میں نثر پڑھ رہا ہوں یا نظم پڑھ رہا ہوں۔ایک عیسائی مصنف نے قرآن کریم کی اس خوبی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بڑی لطیف بات لکھی ہے وہ کہتا ہے قرآن کریم کا ترجمہ جب ہماری زبان میں کیا جاتا ہے۔تو عام طور پر لوگ اس کے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا