تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 535

نہ تھا لیکن قرآن کریم میں سُود کو کلیۃً حرام قرار دے دیا گیا اور زوائد کی مثال ایسی ہے جیسے پہلے زمانہ میں عبادت کے لیے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ خاص طور پر پاک کئے گئے مقام پر ہی عبادت ہو سکتی ہے اور اس قسم کی شرطیں بھی تھیں کہ ایسے پردے ہوں، ایسا مکان ہو۔یہ باتیں اپنی ذات میں بری تو نہیں لیکن عبادت کے لحاظ سے زوائد ہیں۔ان سب قیود کو اسلام نے اُڑا دیا۔بے شک اسلام نے بھی ایک سیدھی سادی مسجد عبادت کے لیے مقرر فرمائی ہے۔لیکن اُس کو عبادت کے لیے ضروری قرار نہیں دیا۔اگر مسجد نہ ہو تب بھی مسلمان کی عبادت ہو جاتی ہے۔مگر یہود و نصاریٰ کی عبادت کے لیے ایک خاص مقام اور ایک خاص قسم کی تیاری کی قید تھی جو اسلام میں نہیں کیونکہ قرآنی تعلیم مختون ہے یعنی اس میں سے زوائد کاٹ دیئے گئے ہیں صرف ضروری امور کو لے لیا گیا ہے۔تیسرے معنے مطہر کے دھلے ہوئے کے ہیں۔دھلی ہوئی چیز اصل چیز سے علیحدہ نہیں ہوتی صرف اصل چیز پر جو خارجی اثرات ہوتے ہیں ان میں تبدیلی پیدا کر دی جاتی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے مُطَهَّرَةً کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ فقہی پیچیدگیاں جو یہودیوں یا عیسائیوں نے پیدا کر دی تھیں ان سے قرآن کریم نے نجات دلائی ہے۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب بھی کسی مذہب پر لمبا زمانہ گزر جاتا ہے اُس کے ساتھ فقہی پیچیدگیاں شامل ہو جاتی ہیں۔فقہ کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جو مسائل الٰہی کتاب میں نص کے طور پر نہیں آئے ان کا استخراج کیا جائے۔لیکن آہستہ آہستہ جب فقہ میں ضعف آتا ہے خود اصل مسائل میں بھی تصرّف شروع ہو جاتا ہے۔اسی قسم کے نقائص کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اباحت کی طرف لے جاتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ظاہر کی طرف انتہا درجہ کی شدت کے ساتھ بلاتے ہیں یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا تھا اگر یہودیوں نے سزاکی تعلیم پر بے انتہا زور دیا تھا۔تو عیسائیت نے نرمی کی تعلیم پر بے انتہا زور دے دیا۔اب یہ دونوں مسائل ہی ضروری تھے لیکن یہودی فقہ اور عیسائی فقہ نے ان دونوں کو الگ الگ احکام کی شکل میں بدل دیا۔جب اسلام آیا تو اس نے اس پیچیدگی کو بالکل دور کر دیا اور غلط فقہ کا تعلیم پر جو اثر تھا اس کو دھودیا مثلاً اسلام نے بھی کہا ہے کہ دانت کے بدلے دانت آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان(المائدۃ:۴۶)۔مگر اسلام نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عفو بڑی اچھی چیز ہے تمہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے اسی طرح اسلام نے بھی یہی کہا کہ نرمی اور عفو بڑی اچھی چیز ہے مگر ساتھ ہی کہا کہ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ(الشورٰی:۴۱) اُسی وقت عفو جائز ہے جب عفوکے نتیجہ میں مجرم کی اصلاح کی امید ہو اگر یہ خیال ہو کہ عفو مجرم کو اور بھی بگاڑ دے گا اور اُسے بُرے اعمال پر اور زیادہ جرأت دلا دے گا تو اس وقت عفو سے کام