تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 534

ویسے ہی نشانات دکھاتا ہے جیسے پہلے دکھایا کرتا تھا۔تب لوگوں کے دلوں کے تالے کھلتے اور ان کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں اس کے بغیر ان کی روحانی زندگی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً۔مُطَھَّر کے معنے حل لغات میں آ چکے ہیں جو یہ ہیں۔اوّل۔عیبوں سے پاک دوم۔زوائد سے پاک سوم۔دُھلا دھلایا چہارم۔ظاہری نقص سے پاک پنجم۔شرک سے پاک صحف کے مُطَهَّرَةً ہونے کا مطلب پس يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً کے یہ معنے ہوئے کہ وہ ایسے صحیفے پڑھ کر سناتا ہے جو عیبوں سے پاک کئے ہوئے ہیں ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ (۱) پہلی کتابوں میں بعض باتیں غلط اور اللہ تعالیٰ کے الہام کے خلاف مل گئی تھیں اور وہ کتب اُس صورت میں باقی نہیں رہی تھیں جس صورت میں کہ وہ نبی پر اتاری گئی تھیں اب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ اُن تعلیمات کو جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہوئی تھیں بلکہ بعد میں لوگوں نے ان کتابوں میں ملا دی تھیں دُور کر دیا اور اتنا حصہ تعلیم کا قران کریم میں نازل فرما دیا جو واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔گویا عیب سے پاک کیا ہوا کے معنے یہ ہیں کہ جو نقائص پہلی کتب میں پیدا ہو گئے تھے انہیں اس کتاب میں دُور کر دیا گیا ہے یا جو باتیں مل گئی تھیں ان کی اصلاح کی گئی ہے۔ایک معنے اس لحاظ سے یہ بھی بنیں گے کہ گو بعض حصے پہلی کتابوں کے واقعہ میں الہامی ہیں لیکن موجودہ زمانہ کے لحاظ سے وہ قابل عمل نہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو بھی چھوڑ دیا کیونکہ گو منبع کے لحاظ سے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔مگر حالات کے لحاظ سے اب خدا تعالیٰ نے انہیں منسوخ قرار دے دیا ہے۔پس کامل کتاب میں اب اُن کا کوئی مقام نہیں ہے۔دوسرے معنے مُطَھَّرَۃ کے زوائد سے پاک کے تھے ان کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ ایسی باتیں جنہیں گو خراب تو نہیں کہا جا سکتا مگر وہ زوائد میں سے ہیں اُنہیں بھی قرآن کریم نے ترک کر دیا ہے پہلی چیز کی مثال ایسی ہے جیسے پہلے زمانہ میں شراب حرام نہ تھی اسلام نے شراب کو حرام قرار دے دیا۔یا پہلے زمانہ میں سود کلیتًہ حرام