تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 533

کوئی الہامی کتاب بھی ان کے کام نہیں آتی صرف رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ کام آتا ہے۔ایساشخص ہی لوگوں کی نجات کا باعث بن سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت و رسالت کے مقام پر کھڑا ہو اور اپنی قوت قدسیہ سے نفوس کو پاکیزہ کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔اگر یہاں صرف بیّنہ کا لفظ ہوتا تو لوگ کہتے کہ بیّنہ سے مراد کتاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ کتاب لوگوں کی اصلاح کے لیے کافی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر کرنے کے بعد بیّنہ کا ذکر کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اُن کے پاس کتاب موجود تھی مگر وہ ان کو کفر سے نہ بچا سکی۔باوجود اہل کتاب ہونے کے ایسے گرے کہ کفار میں شامل ہو گئے اس لیے یہ سمجھنا کہ کتاب لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی ہوتی ہے بہت بڑی غلط فہمی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے موقعہ پر وہی دلیل کام آتی ہے جو رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ کی شکل میں ہو دوسری کوئی دلیل کام نہیں آیا کرتی خواہ کتاب موجود ہو، تحریف و الحاق سے مبرّا ہوپھر بھی ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر تازہ ایمان پیدا ہو، اس سے تازہ تعلق ہو، اس کی محبت اور پیار کے تازہ کرشمے ظاہر ہوں اور یہ بات بغیر نمونہ اور بغیر اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات کے حاصل نہیں ہو سکتی بے شک اس وقت کتاب تو ہوتی ہے مگر وہ بولتی نہیں لوگوں کے لیے اس کا وجود اور عدم وجود بالکل یکساں حیثیت رکھتا ہے مگر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اُس کے ذریعہ وہ کتاب پھر بولنے لگتی ہے، پھر اس کے انوار لوگوں کے قلوب کو گرماتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار کرتے ہیں اور پھر ان کے ایمانوں میں ایک نئی تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔آیت لَمْ یَکُنْ میں چکڑالویوں اور پیغامیوں کا ردّ اس آیت نے چکڑالویوں کا بھی ردّ کر دیا جو کہتے ہیں کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی ہمیں ضرورت نہیں اسی طرح پیغامیوں کا بھی ردّ کر دیا جو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن لے آئے ہیں تو اس کے بعد کسی رسول کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے یہ خیالات بالکل غلط ہیں وسیع فساد کے وقت میں وہی دلیل کام آیا کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے رسول کی شکل میں ظاہر ہو کتاب لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔اُس وقت وہ بیّنہ کام آتی ہے جو رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ کی شکل میں ظاہر ہو کیونکہ یہ وقت محتاج ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک زندہ وجود ظاہر ہو جو خدا تعالیٰ کے تازہ نشانات کو ظاہر کرنے والا ہو اس کی طرف سے نئے نئے نشانات دکھانے والا ہو اُس کی محبت اور پیار کے خوابیدہ جذبات کو بیدار کرنے والا اور قلوب میں عشقِ الٰہی کی آگ کو بھڑکانے والا ہواور وہ دنیا پر یہ ظاہر کر سکتا ہو کہ ہمارا خدا آج بھی ویسا ہی زندہ ہے جیسے پہلے زندہ تھا اب بھی ویسا ہی کلام کرتا ہے جیسے پہلے کلام کیا کرتا تھا اور اب بھی اپنے پیاروں کی تائید میں