تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 525

ہو یا جس کے نہ ماننے والے شروع میں غالب نہ رہے ہوں۔ہمیشہ کچھ مدت تک (جو موقع کے مطابق بدلتی رہتی ہے کبھی لمبی ہوجاتی ہے اور کبھی چھوٹی) ہر نبی کے دشمن اُس کے اتباع پر غالب رہتے ہیں اس کے بعد نبی کے لئے غلبہ کا زمانہ آتا ہے اور اُسے غلبہ نصیب ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ اس کے نہ ماننے والے دنیا سے مٹ جائیں بلکہ بسا اوقات ماننے والے ہی نہ ماننے والے بن جاتے ہیں یعنی جب نبی کا دورِ افاضہ ختم ہوجاتا ہے یا تجدید کا مستحق ہوتا ہے تو اُس کے ماننے والے اس کی طرف منسوب تو ہوتے ہیں مگر ایماناً اور عقیدۃً اُس کے دشمنوں کے نقشِ قدم پر چل رہے ہوتے ہیں۔گویا اِس دَور میں شیطان اور فرشتے ایک ہی وقت میں اُس کے اتباع پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں فرشتوں کی حکومت زبان پر ہوتی ہے اور شیطان کی دل پر۔تب خدا تعالیٰ کی غیرت پھر جوش میں آتی ہے اور وہ پھر کوئی شریعت والا نبی یا اگر شریعت محفوظ ہو تو احیاء روحِ شریعت کے لئے بغیر شریعت کے نبی مبعوث فرما کر پھر اپنے بندوں کے لئے روحانی ترقی کا راستہ کھول دیتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ رحمٰن اور رحیم خدا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ الٰہی سلسلوں کو سو ۱۰۰ فی صدی لوگ تو مانا نہیں کرتے لیکن پھر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا یہ راستہ ایسے شاندار طریق پر کھولا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کروڑوں کروڑ لوگ آپ پر ایمان لائے اور اس طرح انہوںنے اپنے کفر سے نجات پائی۔چنانچہ اہل کتاب میں سے مصر قریباً سارا مسلمان ہوگیا، فلسطین قریباً سارا مسلمان ہوگیا، شام قریباً سارا مسلمان ہوگیا، عرب کے نصاریٰ قریباً سارے مسلمان ہوگئے۔اِسی طرح دوسرے اہل کتاب مجوس تھے وہ قریباً سب مان گئے اور اُن کا ۹۵یا۹۶ فی صدی حصہ مسلمان ہوگیا۔ہندوستان اور چین کے اہل کتاب میں سے بھی کروڑوں مسلمان ہوگئے ہندوستان کےمسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے اگر ان میں سے ایک کروڑ بھی باہر سے آئے ہوئے سمجھ لئے جائیں تب بھی نو ۹ کروڑ ایسے لوگ رہ جاتے ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے۔اسی طرح چین میں قریباً آٹھ کروڑ مسلمان ہیں اِن میں سے شاید دو چار یا دس لاکھ مسلمان عرب سے آیا ہوا ہو باقی سب وہ لوگ ہیں جو کنفیوشس کے پیرو تھے بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔غرض اہل کتاب میں سے ایک بڑی تعداد جو کروڑوں پر مشتمل ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائی اور اُس نے کفر سے نجات حاصل کی۔پس یہ کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا فائدہ کیا ہوا کیا سب اہل کتاب آپ پر ایمان لے آئے؟ تاریخی لحاظ سے نہایت بودا اعتراض ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے لئے نہیں، دو کے لئے نہیں، کروڑوں کروڑ لوگوں کے لئے یہ راستہ کھولا اور کروڑوں کروڑ اہل کتاب کو آپ پر ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی۔اِسی طرح مشرکوں میں سے عرب کے مشرک تو