تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 48
جھوٹ کو یا قتل وغیرہ جرائم کے ارتکاب کو بُرا سمجھتاہے تو یہ بالکل غلط ہو گا۔دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جو ان افعال کو بُرا نہیں سمجھتے۔یا مثلاً گوشت خوری ہے اس کے متعلق مسلمانوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اس میں کوئی بُرائی نہیںسمجھتے اور ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اس کوبہت بڑا گناہ سمجھتے ہیںاور گوشت خوری سے ان کو اتنی شدید نفرت ہوتی ہے کہ کھانا تو الگ رہا اگر گوشت کا کوئی شخص ان کے سامنے نام بھی لے لے تو انہیںقے آجاتی ہے۔ہماری جماعت میں سردار فضل حق صاحب ایک نو مسلم دوست تھے وہ سکھ مذہب کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ کئی سال تک مسلمان رہے اور دوسروں کو بھی اسلام کی تبلیغ کرتے رہے ان کی یہ حالت تھی کہ وہ سالہا سال تک گائے کے گوشت سے شدید متنفّر رہے (ممکن ہے قادیان سے جانے کے بعد اُن کا یہ حال نہ رہا ہو مگر جب تک وہ قادیان میں رہے اُن کا یہی حال تھا) مجھے خوب یاد ہے وہ ایک دفعہ مہمان خانہ میں آکر ٹھہرے چونکہ وہ گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لئے بعض دوستوں نے یہ طے کر لیا کہ جس طرح بھی ہو سکے ان کو گوشت ضرور کھلانا ہے۔ایک دن بھائی عبدالرحیم صاحب، شیخ عبد العزیز صاحب اور بعض اور دوست ان سے اصرار کرنے لگے کہ آج تو ہم نے آپ کو ضرور گائے کا گوشت کھلانا ہے۔وہ یہ سنتے ہی اٹھ کر بھاگے۔وہ آگے آگے تھے اور یہ دوست ان کے پیچھے پیچھے۔مجھے وہ نظارہ اب تک یاد ہے کہ وہ کبھی ایک چارپائی سے کود کر دوسری طرف چلے جاتے وہاں ان کا پیچھا ہوتا تو تیسری چارپائی سے کود کر بھاگتے اور جب لوگوں نے ان کو پھر بھی نہ چھوڑا تو وہ ایک کمرہ سے نکل کر دوسرے کمرہ میںبھاگ گئے مگر لوگ بھی ان کے پیچھے پیچھے تھے آخر اسی بھاگ دوڑ میں ان کو اتنے زور سے قے آئی کہ ان کے دوست دیکھ کر ڈر گئے اور انہوں نے ان کو چھوڑدیا اور سمجھ لیا کہ اگر اب بھی ہم ان کو گائے کا گوشت کھانے پر مجبور کریںگے تو یہ سخت ظلم ہوگا۔تو دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جو گوشت خوری سے سخت نفرت رکھتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کو گوشت خوری کے بغیر چین ہی نہیںآتا۔مگر اس کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گوشت کھانا انسانی فطرت میں داخل ہے یا گوشت نہ کھانا انسانی فطرت میںداخل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کانشنس بالکل اور چیز ہے جس کی حقیقت کو لوگوں نے سمجھا ہی نہیں کانشنس کے معنے صرف اتنے احساس کے ہیں کہ انسان بعض باتوں کو بُرا اور بعض باتوں کو اچھا سمجھتا ہے کانشنس میں یہ بات شامل نہیں کہ فلاں چیز اچھی ہے اور فلاںچیز بُری۔یہ بات عادت سے تعلق رکھتی ہے جیسی کسی کو عادت ہو گی ویسے ہی اُس کا اس چیز کے متعلق احساس ہو گا مگر بہر حال کوئی انسان دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا جو ہر چیز کو اچھا کہتا ہو یا ہر چیز کو بُرا سمجھتا ہو۔ہر انسان یہی کہے گا کہ بُرا کام نہیںکرنا چاہیے اور ہرانسان یہی کہے گا کہ اچھا کام ضرورکرنا چاہیے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ بُرے کام کو