تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 514
اوّل اِن احادیث میں جو مَنْ سَـمِعَ بِیْ کے الفاظ آتے ہیں اِن سے مراد محض سماع نہیں بلکہ سماعِ حُجّت ہے کیونکہ سزا بغیر حُجّتِ قاطعہ کے نہیں ہوتی۔یعنی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حدیث میں جو مَنْ سَـمِعَ بِیْ یا لَا یَسْمَعُ بِیْ کے الفاظ آتے ہیں اُن کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی کو محض اتنا علم ہو جائے کہ بانیٔ اسلام نبوت کے مدعی ہیں اور وہ آپ پر ایمان نہ لائے تو وُہ دوزخی ہو جائے گا کیونکہ خود احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کوکوئی سزا نہیں ملے گی مثلاً پاگل کے متعلق آتا ہے کہ اُسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔اب جہاں تک سننے کا تعلق ہے اس امر سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ سنتا ایک پاگل بھی ہے مگر اس کے باوجود اُسے سزا نہیں ہو گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالی سماع کافی نہیں اگر خالی سماع کافی ہوتا تو ایک مجنون اور فاتر العقل کو بھی سزا ملنی چاہیے مگر احادیث بالصراحت بتاتی ہیں کہ پاگل مرفوع القلم ہوتا ہے اور اُسے اپنے مجنونانہ افعال کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سزا نہیں ملے گی(بخاری کتاب الطلاق باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران والمجنون وامرہما)۔یہ امتیاز اِسی لئے رکھا گیا ہے کہ پاگل سنتا تو ہے مگر سمجھتا نہیں۔اِسی طرح جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ذکر سُنا ہے اُس پر حجت تمام نہیں ہوئی۔وہ بھی سزا کا مستحق قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ سزا اتمام حُجّت یا حقیقت کو پورے طور پر سمجھ لینے کے بعد وارد ہوتی ہے اور جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کو سمجھا ہی نہیں تو وہ سزا کامستحق کس طرح ہو سکتا ہے؟ دوسرے اِن احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفراور سزا کو الگ الگ امور قرار دیا ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو ہمارے اور پیغامیوں کے درمیان ایک مدّت سے مابہ النّزاع چلا آ رہا ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ کیا وہ شخص جس نے مرزا صاحب کا نام بھی نہیں سُنا کافر ہے؟ اور ہم جوا ب میںکہتے ہیں کہ ہاں جس نے مرزا صاحب کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہے تو وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو یہ کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ جس شخص نے مرزا صاحب کا نام بھی نہیں سنا اُسے جہنمی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ کافر اور جہنمی میں فرق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوداس حدیث میں صاف طور پر بیان فرما دیا ہے کہ کفر اور سزا یہ دو الگ الگ امور ہیں یہ تو ہرمسلمان تسلیم کرے گا کہ جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہے۔میں سمجھتا ہوں مسلمانوں میں سے کوئی ایک فرقہ بھی ایسا نہیں جو اس بارہ میں اختلاف رکھتا ہو اور ان لوگوں کو جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کانام بھی نہیں سُنا مومن قرار دیتا ہو۔مثلاً وہ لوگ جنہوںنے اہل کتاب کو کافر قرار نہیں دیا اور جو اتنا قلیل طبقہ ہے کہ کسی اعتناء کے قابل نہیں اُن کو مستثنیٰ کرتے ہوئے جمہور مسلمانوں کا قطعی طور پر یہ فیصلہ ہے کہ دنیا میںدو ہی گروہ ہیں یا مسلمان یا کافر۔اب جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا میں دو ہی گروہ سمجھے