تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 511
لفظ استعمال کیا مگر اس سے مکہ کے مشرک مراد نہیں تھے بلکہ انصار مراد تھے چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہ فرمایا کہ اے لوگو مجھے مشورہ دو تو سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کی مراد ہم سے ہے کہ اس موقعہ پر ہم بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان غزوہ بدر الکبرٰی)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثوں کی شہادت اس امر کی تائید میں موجود ہے کہ اَلنَّاسُ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد مشرکین مکہ کے علاوہ اور لوگ بھی ہوتے ہیں یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اَلنَّاسُ کا لفظ استعمال کیا اور آپ کی مراد اس سے انصار تھے۔پھر اس حدیث میں تو وضاحت موجود ہے کہ قوم کے مقابلہ میں ناس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہاں اَلنَّاسُ سے قوم مراد نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان مراد ہیں خواہ وہ دنیا کی کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے مَنْ سَـمِعَ بِیْ مِنْ اُمَّتِیْ اَوْ یَـھُوْدِیٌّ اَوْ نَصْـرَانِیٌّ فَلَمْ یُؤْمِنْ بِیْ لَمْ یَدْ خُلِ الْـجَنَّۃَ ( مسند احـمدبن حنبل مسند الکوفیِّیْن، حدیث ابی موسٰی اشعری) اس حدیث کے الفاظ میں کچھ غلطی ہے جس کو آگے ظاہر کیا جائے گا موجودہ صورت میں اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس شخص نے میری اُمت میں سے میرے متعلق بات سُنی یا کسی یہودی یا نصرانی نے میرا ذکر سُنا اور پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لایا وہ جنّت میں داخل نہیں ہو گا۔اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُمّت اور ہے اور یہودی اور نصرانی اور ہیں مگر درحقیقت یہ راوی کی غلطی ہے کہ اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو صحیح طور پر نہیں سمجھا اور یہودی اور نصرانی کے ساتھ ’’ اَوْ‘‘ کا لفظ بڑھا دیا۔اس کی وجہ درحقیقت یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اُمت کے معنے ایمان لانے والے لوگوں کے سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اُمت کے لفظ کا اطلاق انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو کسی نبی پر ایمان رکھتے ہوں اس محاورہ کی وجہ سے جو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے راوی نے سمجھا کہ شاید مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ صحیح طور پر یاد نہیں رہے ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آپ اپنی اُمّت میں کسی یہودی یا نصرانی کو بھی شامل سمجھتے اس لئے اُس نے حدیث بیان کرتے وقت ’’ اَوْ‘‘ ’’ اَوْ‘‘ کا لفظ بڑھادیا اور سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو گا کہ مَنْ سَـمِعَ بِیْ مِنْ اُمَّتِیْ اَوْ یَـھُوْدِیٌّ اَوْ نَصْـرَانِیٌّ مگر یہ ہے غلط۔خود مسند احمد کی بعض اور روایات ہیں جو اس غلطی کو واضح کرتی ہیں۔درحقیقت حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ مَنْ سَـمِـعَ بِیْ مِنْ اُمَّـتِیْ یَـھُــوْدِیٌّ اَوْ نَصْـرَانِیٌّ فَلَمْ