تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 512
یُؤْمِنْ بِیْ لَمْ یَدْخُلِ الْـجَنَّۃَ جس شخص نے میری اُمت سے میری بابت سنا۔یہ صاف بات ہے کہ اگر اُمَّتِیْ سے مراد ماننے والے لوگ ہیں تو کیا کوئی ماننے والا ایسا بھی ہو سکتا ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ سنا ہو؟ یہ بات عقل کے بالکل خلاف ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے تو ہو مگر اس نے آپ کا ذکر نہ سنا ہو۔پس خود اُمت کالفظ جو اس حدیث میں استعمال کیا گیا ہے بتا رہا ہے کہ یہاں اُمت سے مراد صرف ماننے والے نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا مخاطب ہے چنانچہ مسلم کی ایک روایت جو ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے اس غلطی کو واضح کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل منشاء کیا تھا۔مسلم نے ابو موسیٰ اشعری سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا یَسْمَعُ بِیْ رَجُلٌ مِّنْ ھٰذِہٖ الْاُ مَّۃِ یَـھُوْدِیٌّ وَّلَا نَصْـرَانِیٌّ ثُمَّ لَا یُؤْمِنُ بِیْ اِلَّا دَخَلَ النَّارَ (مسلم کتاب الایـمان باب وجـوب الایمـان برسالۃِ نـبیِّنا مـحمد صلی اللہ علیہ وسلم الٰی جـمـیع الناس ) یعنی ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری اُمّت میں سے کوئی شخص میرا ذکر نہیں سُنے گا خواہ یہودی ہو یا نصرانی ثُمَّ لَا یُؤْمِنُ بِیْ پھروہ مجھ پر ایمان نہیں لائے گا اِلَّا دَخَلَ النَّارَ تو وہ ضرور آگ میں داخل کیا جائے گا۔یہ روایت صحتِ الفاظ کے لحاظ سے زیادہ درست ہے کیونکہ اِ س میں اُمّت اور یہود و نصاریٰ کو الگ الگ بیان نہیں کیا گیا بلکہ یہود و نصاریٰ کو اُمّت کا ایک حصہ بتایا گیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحتاً یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہود و نصارٰی اگر آپ پر ایمان لائیں تو یہ نہیں کہ اُن کا ایمان لانا صرف ایک زائد خیر کا رنگ رکھے گا بلکہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ میں ڈالے گا۔اس حدیث سے یہ وضاحت ہو گئی کہ پہلی روایت میں بھی درحقیقت یہودی اور نصرانی کے الفاظ اُمّت کے بدل کے طور پر استعمال کئے گئے تھے مگر راوی نے غلطی سے ’’ اَوْ‘‘ ’’ اَوْ‘‘بڑھا کر فقرہ اس طرح بنا دیا کہ مَنْ سَـمِعَ بِیْ مِنْ اُمَّتِیْ اَوْ یَـھُوْدِیٌّ اَوْ نَصْـرَانِیٌّ۔امام احمد بن جنبل کی ایک دوسری روایت بھی انہی الفاظ کی تصدیق کرتی ہے چنانچہ اُس روایت کے الفاظ یہ ہیں۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ ﷲِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا یَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِّنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ یَـھُوْدِیٌّ اَوْ نَصْـرَانِیٌّ ثُمَّ یَـمُوْتُ وَلَایُؤْمِنُ بِالَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ اَصْـحَابِ النَّارِ۔( مسند احـمدبن حنبل مسند ابی ھریرۃ) یعنی حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ