تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 1
سُوْرَۃُالشَّمْسِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الشمس۔یہ سورۃ مکّی ہے وَھِیَ خَـمْسَ عَشْـرَۃَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـہَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور بسم اللہ کے سوا اس میں پندرہ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ الشمس مکی سورۃ ہے یہ سورۃ مکی ہے۔ابن عباس ؓ کی روایت ہے نَزَلَتْ بِـمَکَّۃَ کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی ایسی ہی روایت ابن الزبیر ؓسے بھی ہے۔عقبہ ابن عامر کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ظہر کی نماز میں سُوْرَۃُ الشَّمْس اورسُوْرَۃُالضُّحٰی پڑھا کریں۔مطلب یہ کہ اس وقت زیادہ لمبی سورتیں نہ پڑھا کریں۔نیز ان دونوں سورتوں کو ظہر کے وقت سے مناسبت بھی ہے۔(فتح البیان زیر سورۃ الشّمس ابتدائیۃ) سورۃ الشمس کے نزول کے متعلق پادری ویری کا خیال اور اس کا ردّ پادری ویری کے نزدیک پہلانصف حصہ پہلے سال کا اور آخری نصف تیسرے چوتھے سال کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ آخری حصہ میںمخالفت ِ انبیاء کا ذکر ہے۔وہ کہتے ہیں چونکہ اس سورۃ کے آخری حصہ میں انبیاء کی مخالفت کا ذکر ہے اور انبیاء کی مخالفت کا ذکر اسی وقت اور اسی سلسلہ میں ہو سکتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری مخالفت مکہ میں شروع ہو گئی ہو اور منظم مخالفت تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے شروع میں ہوئی ہے اس لئے سورۃ کا یہ حصہ اُسی وقت کا ہے۔یہ تو درست ہے کہ یہ سورۃ ابتدائی زمانہ کی ہے اور بالکل ممکن ہے کہ پہلے سال کی ہو یا دوسرے سال کی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تیسرے سال کے ساتھ اس کا تعلق ہو لیکن ویری کا یہ قیاس کرنا بالکل لغو بات ہے کہ چونکہ اس میں مخالفتِ انبیاء کا اجمالاً ذکر ہے اس لئے آدھا حصہ پہلے نازل ہو چکا تھا اور آدھا حصہ بعد میںنازل ہوا۔پہلاحصہ پہلے سال میں نازل ہوا اور دوسرا حصہ تیسرے یا چوتھے سال میں نازل ہوا کیونکہ محض مخالفتِ انبیاء کا ذکر مخالفت کے شروع ہو جانے سے تعلق نہیں رکھتا۔ہم تو قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور اس شک میں پڑنا بالکل خلاف