تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 494

اس قسم کی جماعت پیدا کر گیا ہو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم لدُنّی حاصل ہوتا ہو اور جو اس کے کلام کو سمجھانے والے ہوں۔میں رؤیا کی حالت میںاس خصوصیت پر زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں یہ نبی ہی کی شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے بعد ایسی جماعت قائم کر دیتا ہے جس میں نئی زندگی اور نئی روئیدگی کی طاقت ہوتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھ کر اور اس کے کلام کے علوم کو سیکھ کر دنیا میں پھیلاتی اور ان کی اشاعت کرتی ہے(الفضل ۹ ؍مارچ ۴۵ ۱۹ء صفحہ۱) یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے وہ اپنی جماعت میں ایک ایسی روح پیدا کر دیتا ہے جس کی مثال دوسروں میں نہیں ملتی۔بِاِذْنِ رَبِّهِمْ کے دو معنے بِاِذْنِ رَبِّهِمْ کے دومعنے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ وہ اذن الٰہی کو لے کر اترتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا اترنا اذن الٰہی سے ہوتا ہے۔پہلی صورت میں باء کا تعلق تَنَزَّلُ کے ساتھ ہوگا یعنی تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اور معنے یہ ہوں گے کہ وہ اذن الٰہی کو لے کر اترتے ہیں یعنی کلام الٰہی کی تائید کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے لوگوں کی طرف خدا تعالیٰ کا حکم لاتے ہیں۔دوسری صورت میں یہ جملہ حال ہوگا اور مراد یہ ہوگی کہ ان کا نزول اذن الٰہی سے ہوتا ہے یعنی اس قسم کا تغیربغیر اذن الٰہی کے نہیں ہوتا جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے تب پیدا ہوتا ہے۔علماء کا یہ کام نہیں کہ جب قوم بے جان ہوجائے اور اس میں سے زندگی کی روح بالکل نکل جائے تو وہ دوبارہ اس کو زندہ کرسکیں۔ملائکہ بھی اور روح بھی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور اس کے حکم سے آتے ہیں اس لئے جب بھی مذہبی قومی احیاء ہوگا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا انسانی تدبیروں سے مذہب کا احیاء نہیں ہو سکتا۔مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے دومعنے مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے معنے ہیں مِنْ اَجْلِ کُلِّ اَمْرٍ اَوْ لِکُلِّ اَمْرٍ۔یعنی ہر امر کی خاطر۔یا اس کے معنے ہیں بِکُلِّ اَمْرٍ ہر امر کو ساتھ لے کر اترتے ہیں۔مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ ہر امر جو اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہوگا اس کو پوراکرنے اور ہر ایک روک جو اسلام کی ترقی میں حائل ہوگی اس کو دور کر نے کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے اور وہ کام جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے سرانجام دے دے گا۔لیکن اس آیت کے ایک اور بھی معنے ہیں اور وہ یہ کہ وہ زمانہ گذرگیا جب ناقص اور جزوی شریعتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا کرتی تھیں۔اب وہ زمانہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے وہ کامل شریعت نازل کردی ہے جو تمام ضروری امور پر حاوی ہے۔اس طرح ابتدائے زمانہ میں ہی قرآن کریم سے کامل ہونے کا دعویٰ کردیا گیا اور بتا دیا گیا کہ وہ تمام ضروری علوم جو انسان کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پوری تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں