تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 493
مردہ زندہ ہوگئے ، بے جان لاشے چلنے پھرنے لگے۔صدیوں سے محکوم اور مغلوب قوم کے افراد دنیا کے فاتح اور حکمران بن گئے۔عرب جس کی دنیا میں کوئی عزت نہیں تھی، جسے متمدّن اور مہذب ممالک کی نگاہ میں کوئی وقعت حاصل نہیں تھی اس نے جس رنگ میں اسلام پر ایمان لانے کے بعد ترقی کی ہے اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے ان میں بیداری پیدا ہوگئی تھی اور ان کی مردہ رگوں میں بھی زندگی کا خون دوڑنے لگا تھا اس لئے وہ دنیا میں ایسے عظیم الشان تغیرات پیدا کرنے کاموجب بن گئے جنہوں نے اس کی کایا پلٹ دی۔اسی طرح فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جب کلام الٰہی نازل ہوگا ہمیشہ اس کے ساتھ ملائکہ اترتے رہیں گے جو قلوب میں ایسی روحانیت، ایسی بیداری، ایسی قربانی اور ایسا اخلاص پیدا کریں گے کہ دنیا اسے دیکھ کر محو حیرت رہ جائے گی۔زندگی کی ایک نئی روح لوگوں میں پیدا ہوجائے گی اور وہ اپنے ایمان کے نہایت اعلیٰ نمونے دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔اس زمانہ میں بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے ایسا ہی ہوگا یہاں تک کہ وہ مسلمان جو کثیر ہونے کے باوجود قلیل ہیں، عالم ہونے کے باوجود جاہل ہیں، زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہیں ان میں بھی ایک نئی روح ڈال دی جائے گی۔یہی روح ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیحؑ ناصری مردوں میں پھونکاکرتے تھے اور یہی روح ہے جس کی طرف قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ( الانفال:۲۵) اے ایمان والو! تم خدا اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کیا کرو جب وہ تمہیں اس غرض کے لئے بلاتا ہے کہ تمہیں زندہ کرے یعنی تم میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا کردے۔غرض فرماتا ہے اس زمانہ میں ایک طرف ملائکہ اتریں گے تاکہ وہ دنیا میں ایسے تغیرات پیدا کریں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں ہوں اور دوسری طرف ان تغیرات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں روح ڈالیں گے تاکہ ادھر دنیا میں تغیرات ہوں اور ادھر وہ دنیا پر قبضہ کرلیں۔یہی حال آئندہ بھی ہوگا یعنی ملائکہ بھی اتریں گے اور تقدیر خاص بھی نازل ہوگی اور اس طرح مومنوں کے اندر ایک نئی بیداری اور نئی زندگی، نیا جوش اور نیا عزم پیدا کردیا جائے گا۔حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے متعلق ایک دلیل میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میرے ارد گرد ایک بہت بڑا ہجوم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔میں اس کے سامنے تقریر کرتا ہوں اور لوگوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہوں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی نہیں ہیں تو مجھے کوئی ایک ہی غیر نبی ایسا بتادو جو اپنے بعد علماء کی