تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 492
صرف کلام نہیں اترتا بلکہ ملائکہ اور روح دونوں کا اس کے ساتھ نزول ہوتا ہے۔روح کے معنے کلام کے بھی ہوتے ہیں اور روح کلام الٰہی لانے والے فرشتے کو بھی کہتے ہیں(اقرب)۔گویا ملائکہ سے مراد عام فرشتے ہیں اور روح سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کلامِ الٰہی لانے والے ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ پہلے الٰہی کلام اور اس کے نازل ہونے کا ذکر ہوچکا ہے اس لئے یہاں روح سے کلام الٰہی لانے والے فرشتے مراد نہیں ہوسکتے بلکہ اس سے کچھ اور مرا دہے جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔فرماتا ہے ہماری سنت یہ ہے کہ جب کسی مامور پر ہم اپنا کلام نازل کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی اپنے ملائکہ کو بھی زمین پر نازل کردیتے ہیں۔یہاں ملائکہ سے وہی فرشتے مراد ہیں جن کو آدم کے وقت سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ہم نے صرف اپنا کلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں کیا بلکہ ملائکہ کی فوج بھی اس کی تائید کے لئے زمین پر نازل کردی ہے یا آئندہ زمانہ میں قرآن کریم کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لئے جو مامورین آئیں گے …… وہ اکیلے نہیں آئیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کی تائید اور نصرت کے لئے اور ان کے کام کو چلانے کے لئے ہمیشہ آسمان سے اترتے رہیں گے۔پس مت سمجھو کہ اپنی تدابیر سے تم ہمارے مامورین کو مغلوب کرلو گے تم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ ایسا کرسکو کیونکہ ملائکہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کی کسی انسان میں طاقت نہیں ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو بھیجا تو ساتھ ہی فرشتوں کو حکم دے دیا کہ جائو اور اس کو سجدہ کرو۔جس کے معنے یہ ہیں کہ فرشتوں کے ماتحت جس قدر چیزیں تھیں وہ آدمؑ کے تابع کردی گئی تھیں۔اسی طرح جب بھی خدا تعالیٰ کسی مامور کو مبعوث فرماتا ہے فرشتوں کا لشکر اس کی تائید میں اتار دیتا ہے اور انہیں حکم دیتا ہے کہ جائو اور زمین میں ایسے تغیرات پیدا کرو جو ہمارے مامور کی ترقی کے لئے مفید ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم اپنے مامور کی تائید کے لئے صرف فرشتے ہی آسمان سے نازل نہیں کرتے بلکہ روح بھی نازل کرتے ہیں۔تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ میں روح سے مراد روحانیت یہاں روح سے مراد وہ روحانیت اور نئی زندگی ہے جو اہل عالم کے قلوب میں پھونکی جاتی ہے۔فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے لوگوں میں روح نہیں تھی وہ بظاہر زندہ نظر آتے تھے مگر مردوں سے بدتر تھے۔نہ ان میں قوت فاعلی تھی نہ ان میں ترقی کا احساس تھا نہ ان میں شرافت اور انسانیت کا کوئی جذبہ پایا جاتا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ملائکہ کی تحریک کے ذریعہ سے انسان کی خوابیدہ فطرت کو بیدار کرنا شروع کردیا اور دوسری طرف مردہ انسانوں میں زندگی کی روح پھونکنی شروع کردی۔آخر نتیجہ یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے