تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 491

کی قدر کم نہیں ہوسکتی۔یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ہزار مہینوں میں چونکہ تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں اس لئے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ کے یہ معنے ہوئے کہ تم اس زمانہ کا کیا ذکر کرتے ہو ، یہ زمانہ تو تیس ہزار زمانوں سے بڑھ کر ہے۔اگر بعد میں تاریکی کے تیس ہزار دور بھی آجائیں تب بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بے قیمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔تب بھی یہی کہا جائے گا کہ وہ زمانہ آئندہ آنے والے سب زمانوں سے بڑھ کر تھا۔کیونکہ اس زمانہ میں اسلامی حکومت کا وہ ڈھانچہ قائم کردیا گیا تھا جو قیامت تک آنے والے لوگوں کی صحیح راہنمائی کرنے والا اور ان کی مشکلات کو پورے طور پر دور کرنے والا ہے۔جو معنے اوپر کئے گئے ہیں ان کے رو سے لیلۃ القدر بمعنے زمانۂ نبوت کی تو تشریح ہوجاتی ہے مگر یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر لیلۃ القدر سے اشارہ معروف لیلۃ القدر سے ہے تو پھر اس آیت کے کیا معنے ہوئے کہ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے اچھی ہے کیونکہ ہزار مہینوں میں تو تراسی اور لیلۃ القدریں آجائیں گی؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ لیلۃ القدر آتی تو ہر سال ہے مگر ہر شخص کو وہ رات میسر تو نہیں آجاتی۔جو لوگ سچے تقویٰ اور سچی نیکی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں انہیں خاص توجہ اور خاص خشوع و خضوع کی حالت میں وہ میسر آتی ہے۔یعنی گو اس کی عام برکات تو عام مسلمانوں کو ہر سال ہی مل جاتی ہیں لیکن اس کا کامل ظہور جبکہ انسان کو یہ معلوم بھی ہوجاتا ہے کہ آج لیلۃ القدر ہے، خاص خاص آدمیوں کو اور کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے۔یہ تجربہ درمیانہ درجہ کے مومنوں کو اپنی عمر میں کبھی ایک دفعہ یا دو دفعہ نصیب ہوتا ہے۔پس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں لیلۃ القدر مل جائے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری عمر کامیاب ہوگئی۔اور عمر کا اندازہ تراسی سال لگا کر بتایا ہے کہ ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ رات اس کی باقی عمر سے افضل ہے اور اسی رات کی خاطر اس کی زندگی گزری ہے اور یہ رات اس کی زندگی کا نچوڑ ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ (ہرقسم کے) فرشتے اور (اخلاص کی ) روح اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ۰۰۵ تمام (دینی و دنیوی) امور (کی خرابی کو درست کرنے) کے لئے اترتے ہیں۔تفسیر۔تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا میں اللہ تعالیٰ ایک زائد بات یہ بتاتا ہے کہ اس کی طرف سے